میگنزی کا کہنا تھا کہ ایسی موسیقی ان کے خیالات کو توانائی بخشتی ہے۔ اب تو کمپیوٹر کا دور آ گیا ہے لیکن اگلے وقتوں میں تحریر صاف رکھنے کے لئے عموماً ٹائپ رائٹر کا استعمال کیا جاتا تھا۔ مشہور ادیب چارلس ڈکنز اس کا استعمال نہیں جانتے تھے‘ اس لئے ڈکنز کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریریں پڑھنا بہت دشوارہوتا تھا۔ ان کی تحریریں خاردارتاروں کی طرح الجھی ہوئی نظر آتیں۔ یقیناً ڈکنز کی تحریروں نے ناشرین کو بڑا پریشان کیا ہوگا۔ چارلس ڈکنز کے بارے میں یہ پڑھ کر آپ یقیناً حیران ہوں گے کہ اگر اس کے بستر کا رخ شمال کے بجائے مشرق یا مغرب کی طرف کر دیا جاتا تو اسے نیند ہی نہیں آتی تھی ‘وہ تمام رات جاگ کر گزار دیتا لیکن جب بستر کا رخ شمال کی طرف کر دیا جاتا تو وہ گہری نیند سو جاتا تھا۔سب سے عجیب عادات و حرکات ان دیبوں کی تھیں جو خاص قسم کے ماحول میں خاص قسم کا لباس پہن کر لکھتے تھے ۔مثلاً مشہور ادیب ڈیومالکھتے ہوئے ایک اونچی لمبی ٹوپی ٗ پھول دار جاپانی چوغے کے ساتھ پہنتے ۔وہ کہتے تھے
مزید پڑھیے:جنازوں کے ساتھ بھی سیلفی!
’’ میرے آدھے خیالات اس ٹوپی کے اندر ہوتے ہیں اور آدھے اس چوغے میں جو میں روحانی مناظر لکھتے وقت پہنتا ہوں‘‘۔ مختصر افسانے کے بانی مشہور مصنف ایڈگرایلن پو کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ لکھتے وقت اکثر اپنی پالتو بلی کو کندھے پر بٹھا لیتا تھا۔



















































