اس کے برعکس لارڈ ڈیوڈ سسلی نے اپنی طویل سوانح عمری پنسل سے لکھی تھی ۔ اردو کی مشہور افسانہ نگار ڈرامہ نگار عصمت چغتائی اوندھی لیٹ کر لکھتی تھیں اور لکھتے ہوئے عموماً برف کی ڈلیاں چباتی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈلیاں چبانے سے میرے ذہن میں نت نئے خیالات آتے ہیں۔ مشہور انگریز ادیب جارج برنارڈشا ابتداء میں اس قدر شرمیلا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کو ملنے سے بھی گھبراتا تھا‘ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ اپنے دور کا بہترین مقرر تھا۔ انگریزی کے ادیب ڈیکسٹر اپنی تحریر میں کامے ٗ فل سٹاپ اور ڈیش وغیرہ نہیں لگاتے تھے ‘وہ اپنی تحریر میں انگریزی لکھائی کے اس قاعدے کا بھی لحاظ نہیں رکھتے تھے کہ ہر نیا جملہ بڑے حروف تہجی سے شروع ہو‘ اس وجہ سے ان کی تحریر ایک طویل ترین جملہ لگتی تھی۔ ان کی کتاب کے ناشر نے ایک دفعہ پریشان ہو کر انہیں لکھا کہ اس میں نہ تو کاما ہے‘ نہ فل سٹاپ ٗ میں کیا کروں؟ ڈیکسٹر کو تاؤ آگیا‘ انہوں نے کچھ کاغذوں پر بے شمار کامے ٗ ڈیش ٗ فل سٹاپ وغیرہ لکھے اور انہیں ناشر کو اس نوٹ کے ساتھ روانہ کر دیا کہ جہاں جہاں ضرور ت ہو وہ اس کاغذ سے کامے ٗ ڈیش اور فل سٹاپ وغیرہ اٹھالے۔ برطانیہ کے معروف ادیب کو مپٹن میگنزی لکھتے وقت پس منظر میں کلاسیکی موسیقی کی دھنیں سنا کرتے تھے۔



















































