میں ایک بک سٹال پر کھڑا تھا اسی دوران ایک شخص سے مختلف ادیبوں کے حوالے سے بات چیت شروع ہو گئی ‘جب اسے پتاچلا کہ میں لکھتا ہوں تو اس نے سگریٹ سلگائی اور مجھے آفر کی۔ جب میں نے کہا ’’بھائی صاحب میں سگریٹ نہیں پیتا ‘‘تو کہنے لگا’’حیرت ہے آپ لکھتے ہیں مگر سگریٹ نہیں پیتے‘‘ اسی طرح بعض ادیب لکھتے ہوئے چائے پینے کے عادی ہوتے ہیں۔ مشہور ادیب ایڈگررائس اپنی دلچسپ اور چونکا دینے والی کہانیاں چائے کی بے شمار پیالیاں پی کر لکھتے تھے۔ فرانسیسی ادیب بالزاک چائے کے بجائے کافی پیتے تھے۔ وہ آدھی رات سے لے کر اگلے دن کی دوپہر تک لکھا کرتے تھے ۔اس دوران وہ کافی کی لاتعداد پیالیاں پی جاتے ۔ایک دفعہ انہوں نے مذاقاً کہا تھا ’’میں کافی کی دس ہزار پیالیاں پی کر مروں گا‘‘۔ بعض ادیب ایسے بھی گزرے ہیں جو لکھنے کے دوران اپنے قریب سیب یا شہد رکھتے تھے‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ سیب یا شہد کی خوشبو سونگھنے سے ان کے خیالات کو تحریک ملتی تھی۔ ایک زمانہ تھا جب ادیب اتنے نازک مزاج ہوتے تھے کہ بلی کی میاؤں میاؤں اور مرغ کی ککڑوں کوں سے پریشان ہو جاتے اور ایک دم ان کے قلم رک جاتے ۔ آپ اسے ملکہ وکٹوریہ کا دور کہہ سکتے ہیں تاہم آج کے بیشتر ادیب لکھتے وقت ارد گرد ہلکا پھلکا شورگوارا کرلیتے ہیں شاید وہ شور کے عادی ہو گئے ہیں۔ معروف ادیب جے بی پریسٹلے صرف کسی تحریر کو درست کرنے یا دستخط کرنے کے لئے پنسل استعمال کرتے تھے۔



















































