اس کے ساتھ ساتھ الیگزینڈر ڈومارجرائد کے لئے مضامین لکھتے وقت گلابی کاغذ ٗ اپنی شاعری پیلے کاغذاور ناول کے لئے نیلے رنگ کا کاغذ استعمال کرتے تھے ۔اردو کے منفرد اورممتاز مزاح نگار شفیق الرحمن ہمیشہ کھڑے ہو کر لکھا کرتے تھے۔ اسی طرح انگریزی کی ادیب کیرولین ویج وڈ کہتی تھیں کہ لکھتے ہوئے بعض اوقات ریڈیو سننے سے انہیں خیالات مجتمع کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ آئرلینڈ کے مشہور ناول نگار جیمز جوائس نے اپنی تمام تحریریں بستر پر الٹے لیٹ کر لکھیں۔ ان کا کہنا تھا’’ میں اس طریقے سے لکھتے ہوئے آرام محسوس کرتا ہوں‘‘۔ بچوں کے عظیم محسن حکیم محمد سعید عام طورپر رف لکھتے وقت اشتہارات کے پچھلے حصے کااستعمال کرتے تھے۔ یہ اشتہارات مختلف اخبارات کے ہوتے تھے یا عموماً ایڈورٹائزنگ کے لئے۔ حکیم صاحب کے بقول ’’یہ قوم ابھی اتنی امیر نہیں ہوئی کہ بہترین کاغذ استعمال کر سکے‘‘ حالانکہ حکیم صاحب کے پاس کسی چیز کی کمی نہ تھی لیکن ان کی یہ بات اس قوم کو سادگی اور کفایت شعاری کا درس ضروردیتی نظر آتی ہے۔ کئی ادیب و شاعر لکھتے وقت سگریٹ کا استعمال کرتے تھے کیونکہ ان کے مطابق سگریٹ ان کے دماغ کو متحرک رکھتی ہے حالانکہ اسی سگریٹ نوشی کی وجہ سے وہ مہلک بیماریوں میں مبتلا رہے۔



















































