جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

بل گیٹس: دنیا کا امیر ترین شخص اپنی زندگی کے اہم ترین مشن پر

datetime 30  اپریل‬‮  2015 |

وہ خصوصاً شعبہ ویکسین میں انقلابی اور جدید تبدیلیاں لے آئے۔ 1999ء میں بل نے 21 ارب ڈالر زبل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے حوالے کئے۔ اس سرمائے سے نئی ویکسین ایجاد کروائی گئیں پھر ادویہ ساز کمپنیوں سے انھیں بنوا اور خرید کر غریب ممالک میں تقسیم کیا گیا۔ یوں بین الاقوامی سطح پربذریعہ ویکسین بچوں کی جانیں بچانے والا انتہائی مؤثر نظام سامنے آگیا۔ آج بل گیٹس کا وضع کردہ ویکسین پروگرام دنیا بھر میں سالانہ’ ’25کروڑ‘‘ بچوں کو مختلف ویکسین مہیا کرتا ہے۔ اس پروگرام میں ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں وہ بھی فاؤنڈیشن کو کروڑوں ڈالر ز امداد دیتے ہیں۔ یہ پروگرام اب گیوی الائنس (Global Alliance for Vaccines and Immunisation)کے نام سے مشہور ہے۔2001 سے اب تک گیوی الائنس پاکستان کے ویکسین پروگرام کو 30 کروڑ ڈالرزکی امداد دے چکا ہے یوں ممکن ہوا کہ لاکھوں پاکستانی بچوں کو بیماریوں مثلاً خسرہ‘ کالی کھانسی‘ زرد بخار‘پولیو‘ نمونیا‘ دست‘ ملیریا وغیرہ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کامیابی میں اہم ترین کردار بل گیٹس ہی کا ہے۔اس دوران گیوی الائنس نے بھارت کو صرف ساڑھے چار کروڑ ڈالر زامداد دی۔ گیٹس فاؤنڈیشن کے انقلابی اقدامات کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ دس برس میں ویکسین کی قیمت بہت کم ہوگئی یوں ممکن ہوگیا کہ زیادہ سے زیادہ غریب بچوں کو فائدہ پہنچے۔ بل کاکہنا ہے’’اب میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ دنیا بھر میں شرح اموات 80 فیصد تک کم کردوں‘ اگر میں اور میری ٹیم یہ منزل نہ پا سکے تو ہمیں صدمہ ہوگا کیونکہ اس کا مطلب یہی ہوگا کہ ہم نے اپنا کام صحیح طرح انجام نہیں دیا‘‘۔
بل گیٹس ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں طلبہ و طالبات سے خطاب کرنے گئے‘محفل میں ایک طالب علم نے ان سے سوال کیا ’’آپ اپنی کس اختراع کو اوّلیت دیتے ہیں‘مائیکروسافٹ ونڈوز کو یا ویکسین منصوبے کو؟‘‘ بل نے جواب دیا ’’کمپیوٹر سافٹ ویئر پروگراموں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن جہاں تک انسانی جانیں بچانے کا سوال ہے‘ اس اعتبار سے یقیناًویکسین ہی کو برتری حاصل ہے۔‘‘
مزید پڑھیے:ایک پرُکشش خاتون ڈکیت کا عروج و زوال
پاکستان میں بھی کئی صاحب ثروت افراد موجود ہیں‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ بھی بل گیٹس کی تقلید کرتے ہوئے دنیا بھر میں نہ سہی اپنے گھر کی حالت سنوارنے پر ہی کچھ نہ کچھ خرچ کر دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…