جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

اسلام کا سنہرا دور

datetime 23  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) علم و فن کے میدان ہوں یا عسکری قوت کی بات، آج جس طرف بھی نظر اٹھائیں مغرب کا جھنڈا لہراتا نظر آتا ہے۔ آج مسلمانانِ عالم پر مایوسی چھائی نظر آتی ہے لیکن اگر ہم اسلام کے دور زریں پر نظر ڈالیں تو نہ صرف سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے بلکہ یہ امید بھی نظر آتی ہے کہ مسلمان ایک دن پھر اقوام عالم کی امامت کریں گے۔
آٹھویں اور تیرہویں صدی عیسوی کے دوران مسلمان نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کے حکمران بنے بلکہ علوم و فنون کے آسمان پر بھی سورج کی طرح چمکتے رہے۔ مغربی م?رخین اس دور کو “Islamic Golden Age” یعنی اسلام کا سنہرا دور کہتے ہیں۔ یہی دور آج کی جدید فلاحی ریاستوں کے لئے بھی روشن مثال بنا۔ اس دور میں مسلمانوں نے دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ سرکاری ہسپتال قائم کئے جنہیں بیمارستان کہا جاتا تھا۔ ان ہسپتالوں میں کام کرنے والے طبیبوں کو اس وقت کی عظیم ترین جامعات سند جاری کیا کرتی تھیں اوریہ نظام بالکل ایسے ہی کام کرتا تھا جیسے آج کے جدید ہسپتال اور ان میں کام کرنے والے سند یافتہ ڈاکٹر کام کرتے ہیں۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز آج بھی تسلیم کرتی ہے کہ 859 عیسوی میں مراکش میں قائم کی جانے والی جامعۃ القرویین ڈگری جاری کرنے والی دنیا کی پہلی یونیورسٹی ہے۔ آج کے دور میں یونیورسٹیاں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کرنے والوںکو پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کرتی ہیں اور مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری اس لائسنس کی جدید شکل ہے جو اسلامی فقہ پڑھانے کے لئے مطلوبہ قابلیت کا مظاہرہ کرنے والوں کو جاری کیا جاتا تھا۔
اسلام کے دور زریں میں ہی تجرباتی اور مقداری سائنس کی بنیاد رکھی گئی اور اسی بنیاد پر آج کی جدید سائنس کی بنیادیں استوار کی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب بھی ابن الہیثم کو دنیا کا پہلا حقیقی سائنسدان مانتا ہے۔ اسلامی حکومت کی طرف سے بڑی بڑی لیبارٹریاں اور رصدگاہیں قائم کی گئیں جن میں کام کرنے والے تحقیق کاروں کو انتہائی ممتاز مقام حاصل تھا اور انہیں اس قدر بھاری وظائف دئیے جاتے تھے کہ جو آج کل کے حساب سے کروڑوں روپے ماہانہ بنتے ہیں۔
جب پندرہویں صدی عیسوی میں پولینڈ کے عظیم سائنسدان کوپر نیکس نے جیو سینٹرک (زمین نظام شمسی کا مرکز ہے) نظریے کو رد کرکے ہیلیو سینٹرک (سورج نظام شمسی کا مرکز ہے) نظریہ پیش کیا تو کہا گیا کہ انسان کی علمی تاریخ میں عظیم ترین انقلاب برپا ہوگیا، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نئے نظریے کی بنیاد بھی مسلمان سائنسدان رکھ چکے تھے۔ اسی طرح نیچرل سلیکشن کے جدید نظریے کی بنیاد بھی مسلمان سائنسدان الجاحظ نے رکھی۔
صرف عسکری اور سائنسی میدان ہی نہیں بلکہ ادب کے میدان میں بھی مسلمان مفکرین کا کوئی ثانی نہ تھا۔ تیرہویں صدی کے عظیم مسلمان دانشور جلال الدین محمد رومی نے انسانی تاریخ کی نفیس ترین شاعری تخلیق کی۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ہماری نوجوان نسل رومی کا نام بھی بھول چکی ہے لیکن امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں آٹھ صدیاں گزرنے کے باوجود رومی کا شمار مقبول ترین شاعروں میں کیا جاتا ہے اور وہ ان چند شاعروں میں شامل ہیں کہ جن کی شاعری کی کتب آج کے دور میں بھی ہر سال لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔
مسلمانوں کی عظیم دانش سے مغرب تو آج بھی بہرہ ور ہورہا ہے لیکن یہ گمشدہ مال منتظر ہے کہ اس کا اصل مالک کب اس کی طرف توجہ کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…