جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

صرف خونریزی کی خبریں ہی کیوں زیادہ فروخت ہوتی ہیں؟

datetime 2  جنوری‬‮  2015 |

ذرائع ابلاغ آخر یہ فیصلہ کن ترجیحات کے تحت کرتے ہیں کہ صارفین کو معلومات کے طور پر کیا کچھ جاننا چاہیے اور کیا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ اس انتخاب میں خونریزی، سرمائے اور معیار میں سے کون سا پہلو مرکزی اہمیت کا حامل ہوتا ہے؟۔وفاقی جمہوریہ جرمنی کے سابق دارالحکومت بون میں ڈوئچے ویلے کے زیر اہتمام تین روزہ گلوبل میڈیا فورم کے پہلے مباحثے کا موضوع بھی یہی تھا۔ اس دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے اس بین الاقوامی اجتماع کے پہلے دن شرکاءنے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اہم خبروں اور بڑی شہ سرخیوں کے انتخاب میں کسی بھی جگہ پر خون بہائے جانے، سرمائے اور صحافت کے معیار میں سے کون سا عمل مرکزی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔اس مباحثے کا عنوان تھا: ”بڑی خبر صرف اس وقت بنتی ہے، جب خون بہے۔“ اس بارے میں برطانوی نشریاتی ادارے کے عالمی خبروں کے شعبے کے سربراہ رچرڈ پورٹر کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں خود صارفین کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ اپنے موبائل ٹیلی فونوں کے ذریعے ویڈیو ریکارڈنگ یا ٹوئٹر پر پیغامات ارسال کرتے ہوئے بڑی خبروں کے وجود میں آنے کی وجہ بن جاتے ہیں۔ساتھ ہی رچرڈ پورٹر نے یہ بھی کہا کہ اس طرح صارفین کی طرف سے اٹھائے جانے والے پہلے قدم کے ساتھ خبریں تو وجود میں آ جاتی ہیں، لیکن صحافیوں کے لیے ایک اہم سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ جو معلومات مہیا کی گئی ہیں، آیا وہ اس حد تک قابل اعتماد بھی ہیں کہ ان سے کوئی بڑی خبر بھی بن سکے۔ پورٹر نے کہا کہ میرے ادارے کی طرف سے ایسی معلومات کی فراہمی کے بعد حقائق کی چھان بین کا ایک پورا عمل مکمل کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی واقعے کی تہہ تک پہنچتے ہوئے اس کی سچائی کا تعین کیا جا سکے۔ایک برطانوی نشریاتی ادارے کے عہدیدارکے مطابق حقائق کی چھان بین اور سچائی کے تعین میں ان کے ادارے کی کوششوں کا محور خبر کا ڈرامائی پہلو یا اس سے متعلق خونریزی بالکل نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس خبر کی اہمیت کا تعین اس کی مجموعی خبریت کرتی ہے۔اس مباحثے میں حصہ لینے والی شخصیات میں انیتا نیبرگ فرانکن ہوئزر بھی شامل تھیں۔ وہ یورپی براڈکاسٹنگ یونین کی میڈیا سے متعلقہ امور کی ڈائریکٹر ہیں۔ یورپ کے 56 ملکوں کے 70 سے زائد نشریاتی اداروں کی نمائندہ اس یونین کی طرف سے فرانکن ہوئزر نے کہا کہ میڈیا اکثر صرف بہت خونریزی والی خبروں ہی کو ترجیح نہیں دیتا۔
10
انہوں نے کہا کہ بڑی خبروں اور رپورٹوں کے انتخاب میں فیصلہ کن عوامل کسی موضوع کا اس ادارے کے صارفین کے لیے اہم ہونا اور ادارے کے پاس موجود مالی وسائل ہوتے ہیں۔ انیتا نیبرگ فرانکن ہوئزر کے مطابق اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میڈیا اداروں کے فیصلہ ساز صحافی بحران زدہ خطوں میں پیش آنے والے خونریز واقعات اور اہم لیکن کم ڈرامائی پس منظر کی حامل رپورٹوں کے مابین توازن قائم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔
اس مباحثے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے والوں میں برلن سے شائع ہونے والے روزنامے ’ٹاگیز سائٹنگ‘ یا taz کے جنیوا میں تعینات نامہ نگار آندریاز سوماخ بھی شامل تھے۔ وہ عشروں تک کئی بڑے اخبارات اور نشریاتی اداروں کے لیے نامہ نگاری کر چکے ہیں۔ آندریاز سوماخ نے اس موضوع پر مختلف ملکوں میں پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے نشریاتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ”ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ پہلے تو کئی ہفتوں تک مصری دارالحکومت قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں ہونے والے حکومت مخالف عوامی مظاہروں کی رپورٹنگ کرتے رہیں اور پھر جب عام الیکشن میں کامیابی اخوان المسلمون کے محمد مرسی کو ملے تو آپ اس پر حیران بھی ہوں۔“آندریاز سوماخ نے کہا،
11
”زیادہ تر ذرائع ابلاغ نے اپنی توجہ تحریر اسکوائر کے عوامی مظاہروں کی شاندار تصاویر پر مرکوز کر رکھی تھی۔ انہوں نے اس طرف دھیان ہی نہیں دیا تھا کہ مصر کے دیہی علاقوں میں جا کر وہاں کے عوام سے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ اس دور کے حکمرانوں یا حکومت مخالف عوامی مظاہروں کے شرکاء کے بارے میں کیا سوچ رہے تھے۔“اس مباحثے میں شرکاء کے مابین اس پہلو سے اتفاق رائے دیکھنے میں آیا کہ میڈیا کا اصل کام اس امر کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ کسی بھی واقعے کے تمام فریقوں کی سوچ کو نمائندگی ملے۔ اس دوران بڑے بڑے بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی کارکردگی کی کئی مثالیں بھی دی گئیں اور کہا گیا کہ قطعی غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کے پیش نظر ’جو کچھ ہونا چاہیے، وہ بہت کم ہو رہا ہے‘۔مباحثے کے شرکاءنے یہ بھی کہا کہ ان دنوں ایسی رپورٹنگ کی ضرورت زیادہ ہے، جس میں مسائل کے شکار انسانوں کی مشکلات کی واضح تفصیلات بتائی گئی ہوں اور ساتھ ساتھ ان کوششوں کی جامع تفصیلات بھی، جو مسلح تنازعات کے ?پرامن حل کے لیے کی جاتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…