جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

اللہ کے دوست ‘ آپ بیتی

datetime 15  دسمبر‬‮  2014 |

نام میں کیا رکھا ہے۔۔۔ بس میں ایک مزدور ہوں۔ میری کہانی اس ملک کے کروڑوں محنت کشوں کی داستان ہے۔سمجھ میں نہیںآتا بات کہاں سے شروع کروں۔۔۔زندگی کے واقعات ریشم کی ڈور کی مانند الجھے ہوئے ہیں،کوئی سرا ہاتھ آئے تو بات چلے ۔۔۔ زندگی بے ربط ہے۔اک ڈور ہے جس بندھے ہوئے ہیں ، کھینچ پڑتی ہے تو چل پڑتے ہیں۔۔۔ ہر دن ، ہر صبح نئے مسائل کیساتھ طلوع ہوتی ہے۔شام کا سورج بہت سے ارمانوں کا گلہ گھونٹ کرچھپ جاتا ہے۔بہت چھوٹا تھا جب مجھے محنت کے ہل میں جوتا گیا۔۔۔ اب تو بالوں میں سفیدی جھانکنے لگی ہے۔ جانے کس جرم کی سزاپائی ہے ۔۔۔سفر کٹنے میں ہی نہیں آتا۔۔۔
11169822_876785112381650_2848222435225136221_n copyیوم مئی ۔۔۔ لہو رنگ تاریخ
آج کا مزدور1886ء کے شکاگو میں رہ رہا ہے
سال کے پانچویں مہینے کی پہلی تاریخ۔۔۔ یکم مئی !دنیا بھر کے محنت کشوں کا عالمی دن ۔اپنے عالمی دن کا فیصلہ بھی محنت کشوں نے خودہی کیا ۔۔۔ اس وقت اقوام متحدہ کا وجود ہی نہیں تھا۔ دنیا بھر کے محنت کش اس دن 1886ء میں شکاگو کے اُن محنت کشوں کی یاد مناتے ہیں جنہوں نے جانوں کانذرانہ دے کر آٹھ گھنٹے کے اوقات کار مقرر کروائے۔شکاگو کے شہداء کو خراج پیش کرنے کیلئے جلسے، جلوس، ریلیاں اور سیمینار منعقد کر کے اس عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ جب تک دنیا سے استحصالی نظام کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، محنت کشوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔
انقلاب تو 1789ء میں فرانس میں بھی آ یا۔۔۔ یاد رکھنے والے اُسے پیرس انقلاب کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ کارل مارکس کے نظریات پھیل رہے تھے کہ 1883ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس دور میں بھی محنت کشوں کے اوقات کار تھے اور نہ ہی کوئی قاعدہ قانون ۔۔۔ رات گئے تک کام، حادثے یا موت کی صورت میں ٹکا تک نہ ملتا۔ یورپ میں نت نئی صنعتوں کا جال پھیل رہا تھا۔۔۔ مزدوربھی یونین سازی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس جانب پہلا قدم برطانیہ میں اٹھایا گیا مزدوروں نے جدوجہدکی ۔۔۔ یونینز بنائیں، فیڈریشنز تشکیل دیں۔ لیکن جوتاریخ شکاگو کے محنت کشوں نے رقم کی وہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔127 برس بیتے ۔۔۔ جب امریکا کے صنعتی شہر شکاگو کی مشہور زمانہ HAY مارکیٹ کے محنت کشوں نے مل مالکان ، کارخانہ داروں اور صنعت کاروں کو للکاراکہ ’’ظالموں ہم بھی انسان ہیں، ہمیں بھی زندہ رہنے کاحق دو، ہمارے اوقات کار مقرر کرو‘‘۔اس روز شکاگو جام ہوگیا تھا۔ چمنیوں نے دھواں اگلنا چھوڑ دیا تھا۔ دنیا کاپہلا واقعہ تھا جب محنت کشوں نے اتحاد و یگانگت کے بل پر علم بغاوت بلند کرکے ایک باب رقم کیا تھا۔۔۔ پھر یکم مئی 1886ء کی صبح ایک گمنام صحافی نے لکھا تھا : ’’محنت کشوں! تمہاری لڑائی شروع ہو چکی، فیصلہ آنے والا وقت کرے گا، آگے بڑھو اپنے مطالبات کے لئے، اپنے اوقات کار کیلئے، جدوجہد جاری رکھو، حاکموں کو جھکنا پڑے گا، فتح تمہاری ہوگی، ہمت نہ ہارنا ، متحد رہنا ، اسی میں بقاء اورتمہاری فتح ہے۔ لڑتے رہنا مطالبات کی منظوری تک۔‘‘ اس تحریر نے محنت کشوں کا جذبہ ابھارا۔۔۔ انہوں نے زوردارنعرے کے ساتھ آٹھ گھنٹے اوقات کار کا مطالبہ کردیا اور پہلی مرتبہ چوبیس گھنٹوں کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ مزدور آٹھ گھنٹے کام ، آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے اپنے اہل خانہ اور بیوی بچوں کے ساتھ گزاریں گے۔۔۔ حکمرانوں، مل مالکوں اور سرمایہ داروں کی ٹرائیکا کو محنت کشوں کا مطالبہ اور اتحاد پسند نہ آیا ۔۔۔ محنت کشوں کے خلاف سخت ایکشن لیا ، نہتوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ شکاگو کی سڑکیں مزدوروں کے خون سے تر ہوگئیں۔ایک محنت کش کی لہوسے سرخ ہوئی قیمص کو مزدورں نے اپنا سرخ پرچم بنالیا۔ فیصلہ ہوا کہ مطالبات تسلیم کئے جانے تک کوئی مزدورکام پر نہیں جائے گا۔
۔۔۔آخر کارمحنت کشوں کے مطالبات اور پہلی مرتبہ آٹھ گھنٹے کے اوقات کارتسلیم کر لئے گئے ۔بلوہ ، ہنگامہ آرائی اور پولیس اہلکار کی ہلاکت کے الزام میں محنت کشوں کے سرکردہ رہنماؤں اگست ا سپائز، البرٹ پارسنز، کارٹر ہیری سن، سیموئل فیلڈن سمیت سات رہنماؤں پر مقدمہ چلا اور چار رہنماؤں کو پھانسی چڑھادیاگیا۔۔۔ان کا نام اور کام ہمیشہ کیلئے امر ہوگیا۔ بعد ازاں دنیا بھر میں محنت کشوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعے کئی مطالبات منظور کروائے ۔1971ء میں روس میں بھی انقلاب آیا۔ یورپ میں بھی مزدوروں نے کئی مراعات حاصل کیں۔۔۔ وہاں مزدوروں کے اوقات کار چھے گھنٹے مقرر ہوئے۔لیکن انقلاب سے محروم ۔۔۔پاکستان میں آج بھی آٹھ گھنٹے کے بجائے بارہ سے سولہ گھنٹے کی مشقت لی جا رہی ہے۔ محنت کشوں کے حقوق غصب کئے جاچکے ہیں۔۔۔ کیاآج کا مزدور1886ء کے شکاگو میں رہ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…