جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

یونان کشتی حادثہ: کوٹلی کے مزید 88 خاندانوں کا رابطہ، لاپتہ نوجوانوں کی تعداد 166 ہوگئی

datetime 26  جون‬‮  2023 |

میرپور (این این آئی)یونان کشتی حادثے میں اب تک کوٹلی سے تعلق رکھنے والے 166 نوجوانوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی)پولیس میر پور خالد محمود چوہان نے کہا کہ یونان کشتی حادثے میں مزید 88 لاپتہ نوجوانوں کے والدین نے رابطہ کیا ہے اور 50 دیگر لاپتہ نوجوانوں کا ڈیٹا علاقائی سطح پرلوگوں کی مددسے جمع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حادثے کے فوری بعد لاپتہ افرادمیں سے 28 نوجوانوں کے اہلخانہ نے رابطہ کیاتھا، اب تک کوٹلی کے لاپتہ کل 166نوجوانوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ڈی آئی جی میرپور کے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یونان میں لاپتہ نوجوانوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ورثا قانون کے ڈر سے سامنے نہیں آ رہے، لوگوں سے تعاون کی اپیل کی ہے، لاپتہ نوجوانوں کے والدین پولیس کو معلومات فراہم کریں ہم ان کی مدد کریں گے۔ انہوں کہا کہ لاپتہ نوجوانوں میں سے کچھ ابھی یونان کی جیل میں اورکچھ تفتیش کے مراحل میں ہیں۔

یاد رہے کہ غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کے خواہشمند تارکین وطن کی کشتی 14 جون کو یونان کے ساحل کے قریب حادثے کا شکار ہو کر ڈوب گئی تھی۔ابتدائی طور پر کشتی ڈوبنے سے 78 افراد ہلاک ہوئے تھے بعد ازاں 4 مزید لاشیں ملیں تھیں جس کے بعد اموات کی تعداد 82 ہوگئی اور104 کو بچالیاگیاتھا جن میں سے 12 کا تعلق پاکستان سے ہے۔کشتی میں پاکستانی، مصری، شامی اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریبا 750 تارکین وطن سوار تھے۔وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کشتی میں سوار پاکستانیوں کی اب تک کی تعداد 350 ہے جب کہ 281 فیملیز نے رابطہ کیا ہے کہ ان کے بچے اس حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…