بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی جیل میں ایک قیدی کو کھٹملوں نے زندہ کھا لیا

datetime 16  اپریل‬‮  2023 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی شہر اٹلانٹا کی ایک جیل کے قیدی کو کھٹملوں نے زندہ کھا لیا جس کے نتیجے میں وہ چل بسا۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ الزام قیدی کے خاندان کے وکیل نے عائد کیا ہے۔35 سالہ لاسن تھامسن نامی قیدی کے خاندان کی جانب سے موت کی تحقیقات کرانے اور مقامی جیل کو بند کرنے یا اس کی حالت بہتر بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قیدی کے خاندان کا الزام ہے کہ لاسن تھامسن کی موت جیل کے ایک خستہ حال اور غلیظ کمرے میں کھٹملوں کے باعث ہوئی۔لاسن تھامسن کو ایک معمولی جرم کے باعث اٹلانٹا کی فولٹن کائونٹی جیل کے نفسیاتی یونٹ میں رکھا گیا تھا کیونکہ اس کی ذہنی صحت خراب بتائی گئی تھی، مگر وہ جسمانی طور پر صحت مند تھا۔گرفتاری کے 3 ماہ بعد 13 ستمبر 2022 کو لاوسن تھامسن کو ایک خستہ حال کمرے کے اندر مردہ دریافت کیا گیا، جس کا جسم کھٹملوں سے بھرا ہو اتھا۔اس کمرے میں صفائی کی حالت اتنی خرابی تھی کہ جیل کا ایک ملازم حفاظتی لباس پہن کر اس میں داخل ہوا۔لاسن تھامسن کے خاندان کے وکیل مائیکل ہارپر نے بتایا کہ ‘جیل کا عملہ اسے میڈیکل یونٹ میں لے جانے کا منصوبہ بنا رہا تھا مگر ایسا کبھی ہوا ہی نہیں، کیونکہ وہ مردہ پایا گیا، اسے ان کھٹملوں نے زندہ کھا لیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست الاباما میں مقیم قیدی کے خاندان کو اسے قید کیے جانے کا علم ہی اس وقت ہوا جب حکام کی جانب سے موت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

پوسٹمارٹم کی رپورٹ میں موت کی وجہ کا تعین نہیں ہوا مگر یہ بتایا گیا کہ قیدی کے جسم میں چھوٹے کیڑوں کے کاٹنے کے بہت زیادہ نشانات تھے جبکہ اس کے کمرے میں کھٹملوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔رپورٹ میں یہ بھی تصدیق کی گئی کہ قیدی کے پورے جسم میں خراشیں اور زخم موجود تھے جو کہ کھجانے یا کھال نوچنے کا نتیجہ ہیں۔وکیل نے تو ایسی تصاویر بھی جاری کیں جس میں قیدی کی لاش کا منہ اور پیٹ کھٹملوں سے ڈھکا ہوا تھا جبکہ کمرے کی خوفناک حالت بھی ظاہر ہوتی ہے۔جیل کے حکام نے کہا ہے کہ قیدی کے موت کے معاملے پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہے اور جیل کی حالت بہتر بنانے کے لیے 5 لاکھ ڈالرز خرچ کیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…