پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

ایک سو ستر ممالک کو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں، ملکوں کو بحران سے آئی ایم ایف کا قرضہ نہیں بلکہ اچھی لیڈر شپ نکالتی ہے،میاں زاہد حسین

datetime 18  مارچ‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملکوں کو بحران سے آئی ایم ایف کا قرضہ نہیں بلکہ اچھی لیڈر شپ نکالتی ہے۔ اگر لیڈرشپ اصولوں پر چلے

آمدن سے زیادہ اخراجات نہ کیے جائیں تو ملک میں سنگین مالی بحران آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف کے در پر کشکول لے کر کھڑے رہنے والے ملکوں کی تعداد انگلیوں پرگنی جا سکتی ہے جبکہ ایک سو ستر کے قریب ممالک کو اس ادارے کے در پر جانے کی کبھی نوبت نہیں آئی۔ میاں زاہد حسین نیکاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ دار ممالک شاہانہ اخراجات، سرکاری اداروں کے نقصانات، بجلی و گیس چوری اوراشرافیہ پروری کیذریعے خزانہ خالی کر دیتے ہیں اور اسکے بعد خود ہی آئی ایم ایف جیسے اداروں سے قرضے مانگتے پھرتے ہیں۔ سیاستدان قرضوں کے لئے ایسے اداروں کو ملکی معاملات میں مداخلت کی دعوت دے دیتے ہیں جس کے بعد اسکی سخت شرائط پر شور مچاکرعوام کی نظرمیں اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ غلط اقتصادی فلسفوں نے پہلے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا اور اب دیگر ایسے ملکوں کی باری ہے جہاں سیاست کو ہر صورت میں معیشت پر ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے انکی معیشت تباہ اور کشکول ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ڈیفالٹ کا خطرہ سر پر ہونے کے بعد ان کے پاس ہر جائز و ناجائز حکم پر سر جھکانے کیعلاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا اوران تمام معاملات کا سارا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے جن کا ان تمام معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ کمزور ممالک کو مذاکرات میں واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ یا ت ہماری ساری شرائط تسلیم کرو یا پھر دیوالیہ ہونے کا اعلان کردوکیونکہ اس کے علاوہ تیسرا آپشن موجود نہیں ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2018 سے جون2022 تک کرنسی کی قدر کم کر کے

پاکستان پر عائد قرضوں میں بیٹھے بٹھائے 9712 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران شرح سود بڑھانے سے قبل ادا سود کی مد میں 2835 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ صرف ان دو پالیسیوں کی وجہ سے ملک پرقرضے اور سود کی ادائیگیوں کی مد میں 12548ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ان چار سالوں کے دوران اگر ڈالر کی قیمت کا اوسط نکالا جائے تو یہ 79 ارب ڈالر بنتا ہے یعنی ایک روپیہ قرض لئے بغیر ملک پرعائد قرضوں میں اتنا اضافہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…