پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

ایک سو ستر ممالک کو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں، ملکوں کو بحران سے آئی ایم ایف کا قرضہ نہیں بلکہ اچھی لیڈر شپ نکالتی ہے،میاں زاہد حسین

datetime 18  مارچ‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملکوں کو بحران سے آئی ایم ایف کا قرضہ نہیں بلکہ اچھی لیڈر شپ نکالتی ہے۔ اگر لیڈرشپ اصولوں پر چلے

آمدن سے زیادہ اخراجات نہ کیے جائیں تو ملک میں سنگین مالی بحران آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف کے در پر کشکول لے کر کھڑے رہنے والے ملکوں کی تعداد انگلیوں پرگنی جا سکتی ہے جبکہ ایک سو ستر کے قریب ممالک کو اس ادارے کے در پر جانے کی کبھی نوبت نہیں آئی۔ میاں زاہد حسین نیکاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ دار ممالک شاہانہ اخراجات، سرکاری اداروں کے نقصانات، بجلی و گیس چوری اوراشرافیہ پروری کیذریعے خزانہ خالی کر دیتے ہیں اور اسکے بعد خود ہی آئی ایم ایف جیسے اداروں سے قرضے مانگتے پھرتے ہیں۔ سیاستدان قرضوں کے لئے ایسے اداروں کو ملکی معاملات میں مداخلت کی دعوت دے دیتے ہیں جس کے بعد اسکی سخت شرائط پر شور مچاکرعوام کی نظرمیں اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ غلط اقتصادی فلسفوں نے پہلے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا اور اب دیگر ایسے ملکوں کی باری ہے جہاں سیاست کو ہر صورت میں معیشت پر ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے انکی معیشت تباہ اور کشکول ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ڈیفالٹ کا خطرہ سر پر ہونے کے بعد ان کے پاس ہر جائز و ناجائز حکم پر سر جھکانے کیعلاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا اوران تمام معاملات کا سارا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے جن کا ان تمام معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ کمزور ممالک کو مذاکرات میں واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ یا ت ہماری ساری شرائط تسلیم کرو یا پھر دیوالیہ ہونے کا اعلان کردوکیونکہ اس کے علاوہ تیسرا آپشن موجود نہیں ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2018 سے جون2022 تک کرنسی کی قدر کم کر کے

پاکستان پر عائد قرضوں میں بیٹھے بٹھائے 9712 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران شرح سود بڑھانے سے قبل ادا سود کی مد میں 2835 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ صرف ان دو پالیسیوں کی وجہ سے ملک پرقرضے اور سود کی ادائیگیوں کی مد میں 12548ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ان چار سالوں کے دوران اگر ڈالر کی قیمت کا اوسط نکالا جائے تو یہ 79 ارب ڈالر بنتا ہے یعنی ایک روپیہ قرض لئے بغیر ملک پرعائد قرضوں میں اتنا اضافہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…