جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران کو شامل تفتیش ہونے کا حکم، تینوں عدالتوں سے ایک دن کا استثنیٰ مل گیا

datetime 9  مارچ‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اسلام آباد کی تینوں عدالتوں میں پیش نہ ہوئے اور مختلف کیسز کی سماعت میں ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کردیں جو منظور کرلی گئیں۔خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس میں عمران خان نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں

جمعرات کو حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائرکی۔عمران خان سیشن کورٹ میں پیش نہ ہوئے اور ان کے وکیل نعیم پنجوتھہ نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔وکیل نے کہا کہ ایسا نہیں کہ عمران خان عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہتے، عمران خان ہر عدالت میں پیش ہوئے، مختلف عدالتوں میں عمران خان نے بذریعہ ویڈیولنک حاضر ہونیکی درخواستیں دیں، موجودہ حکومت عمران خان کو قتل کرنا چاہتی ہے۔سرکاری وکیل نے کہا کہ دفعہ 144 لاہور میں نافذ ہے، عمران خان کی عدالت پیشی پر نہیں۔وکیل نعیم نیجوتھہ نے کہا کہ پر امن ریلی پر پنجاب حکومت نے شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں برسائیں، عمران خان کی جہاں رہائش تھی اس پر نقل حرکت کرنا مشکل ہے۔پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی کے آنے تک سول جج رانا مجاہد رحیم نے سماعت میں 2 بجے تک وقفہ کردیا۔ بعد ازاں عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظورکرتے ہوئیکیس کی سماعت 13 مارچ تک ملتوی کردی۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے دوران مسلم لیگ (ن )کے رہنما محسن شاہنواز پر مبینہ حملے پر اقدام قتل کے کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی عبوری ضمانت تک منظورکی تھی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو 3 بجے عدالت میں پیش ہونا تھاتاہم یہاں بھی عمران خان پیش نہ ہوئے اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی۔سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے سوال کیا کہ کیا عمران خان شامل تفتیش ہوئے؟

اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ عمران خان ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئے۔وکیل عمران خان نے کہا کہ اس کیس میں کوئی تفتیشی افسر عمران خان کے پاس نہیں گیا۔سرکاری وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسر نے نہیں بلکہ ملزم نے تفتیشی افسر کے پاس جانا ہوتا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ان سے کہیں کسی ایک کیس کے ٹرائل کو تو آگے بڑھنے دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عمران خان شامل تفتیش نہیں ہوتے تو قانون اپنا راستہ خود بنائیگا، ملزم اگر شامل تفتیش نہیں ہوتا تو اس کے اپنے نتائج ہیں۔عدالت عالیہ نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 21 مارچ تک توسیع کرتے ہوئے ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ وقت اس لیے دے رہا ہوں کہ عمران خان نے شامل تفتیش ہونا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو شامل تفتیش ہونیکا حکم دے دیا۔عمران خان کے خلاف تھانہ سنگجانی میں اقدام قتل کے کیس میں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ عدالت پیش ہوئے اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی۔وکیل نعیم پنجوتھہ نے کہا کہ عمران خان کی جمعرات کو حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر دلائل دینا چاہتا ہوں جس پر جج راجہ جوادعباس نے کہا کہ سکیورٹی بنیاد پر دلائل دینے ہیں؟ عدالت سے پہلیتو ٹیلی ویڑن پر آپ کے دلائل چل جاتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد 3 بجے سماعت کریں گے، ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائیگا۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے تاہم ریلی کو لیڈ بھی کرنا چاہتے ہیں، ریلی لیڈ کرنے سے بہتر ہے عمران خان عدالت پیش ہوجائیں، عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کی جائے۔جج نے کہا کہ کیا عدالت میں دیگر ملزمان کو موقع نہیں ملتا؟ عمران خان کوبھی عدالت میں حاضر ہونیکا موقع دیا جائیگا، عدالت ضمانت خارج کر بھی دے تو عمران خان کو گرفتار تو آپ بھی نہیں کرتے۔انسداد دہشت گردی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک نے سماعت میں 3 بجے تک وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت نے بھی عمران خان کی عبوری ضمانت میں 21 مارچ تک توسیع کردی اور ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کرلی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…