منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سابق چیئرمین پی سی بی وسیم اکرم سے پرانا حساب چُکتا کرنے لگے

datetime 24  فروری‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)رمیز راجا نے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم سے حساب چکتا کرنے کی ٹھان لی۔تفصیلات کے مطابق وسیم اکرم سابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کی پالیسیز پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں جبکہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سیزن 8 میں

کراچی کنگز کو مسلسل شکستوں کے بعد انہیں حساب چکتا کرنے کا موقع مل گیا ہے۔نجی ٹی وی ایکسپریس کے مطابق وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا کہ سفارشی ہونے کی وجہ سے رمیز صرف سلپ میں فیلڈنگ کرتے تھے۔کنگز کو اس بار ملتان سلطانز نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر زیر کیا، میچ کے دوران جیت کے امکانات دیکھتے ہوئے مسکراتے نظر آنے والے کراچی کنگز کے صدر وسیم اکرم شکست پر مایوس نظر آئے اور کرسی کو لات ماردی۔ جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھیئ وائرل ہوئی۔اس حوالے سے انٹرویو دیتے ہوئے رمیز راجا نے کہا کہ باہر بیٹھ کر تو آپ کچھ نہیں کرسکتے، آپ نے جو کھلاڑی خود منتخب کیے ان کو سپورٹ بھی کرنا چاہیے،ٹھنڈے دل و دماغ سے معاملات کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا ردعمل صرف مایوسی پھیلانے کا سبب ہی بن سکتا ہے جبکہ دیکھنے میں بھی ایسی حرکات اچھی نہیں لگتیں، اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو بہتر ہے کہ عوام کے سامنے نہ آئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…