اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

عمران خان کا بنی گالا کا گھر تاحال ریگولرائز نہ ہونے کا انکشاف

datetime 17  جنوری‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سی ڈی اے نے تصدیق کی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا بنی گالا کا گھر اب تک باضابطہ طور پر ریگولرائز نہیں کیا گیا کیونکہ ماسٹر پلان کمیشن میں تبدیلی کی وجہ سے بلڈنگ پلانز مشروط طور پر منظور ہوئے ہیں۔سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود سابق وزیراعظم کا گھر اب تک ریگولرائز نہیں کیا گیا۔عمران خان نے 300؍ کنال گھر کو ریگولر کرانے کیلئے 3؍ مارچ 2020ء کو سی ڈی اے کو 12؍ لاکھ روپے ادا کیے تھے۔

روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی خبر کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ عمران خان کا گھر فیس کی ادائیگی کے بعد ریگولر کیا جا چکا ہوگا۔سی ڈی اے نے اس نمائندے کو تقریباً ایک ماہ قبل تحریری جواب میں بتایا تھا کہ ’’ماسٹر پلان کمیشن میں تبدیلی کی وجہ سے سوک باڈی نے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل نہیں کیں۔ماسٹر پلان کمیشن کی سفارشات کے تحت کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنا ہیں جو اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا جائزہ لے گا۔یہ کنسلٹنٹ پورے اسلام آباد کے مسائل اور ضروریات کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کرے گا نہ کہ کسی انفرادی کیس کے حوالے سے۔‘‘ سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان نے سوک ایجنسی کو بتایا تھا کہ ان کے گھر کے گراؤنڈ فلور پر 11371.09 اسکوائر فٹ کا کورڈ ایریا ہے۔اپروول چارجز کے بغیر سی ڈی اے نے اس گھر کے گراؤنڈ فلور کیلئے 12؍ لاکھ 6؍ ہزار روپے فیس مقرر کی۔ تاہم، اس پورے 300؍ کنال کے گھر کے لے آؤٹ کی ریگولرائزیشن کا معاملہ آئی سی ٹی بلڈنگ کنٹرول رولز کی شق 8.22 میں وضع کردہ دیگر شرائط کو پورا کرنے کے بعد ہی مکمل ہوگا۔

تمام شرائط پوری کرنے کے بعد بھی دیکھا جائے تو سی ڈی اے کی جانب سے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کے بعد ان کی تجاویز اور سفارشات کی روشنی میں ہی حتمی ریگولرائزیشن ممکن ہو سکے گی۔سی ڈی اے نے بھیجے گئے جواب میں بتایا ہے کہ بغیر اجازت تعمیرات کے حوالے سے کوئی اضافی فیس نہیں ہے کیونکہ پہلے ہی اس مد میں فیس لی جا چکی ہے۔

سی ڈی اے ان تمام افراد سے رابطہ کرے گا جن کا بلڈنگ پلان مشروط طور پر منظور کیا گیا ہے اور ماسٹر پلان کمیشن اور کنسلٹنٹ کی حتمی رپورٹ کی روشنی میں اگر کوئی دیگر ضروریات یا مطالبات ہوں گے تو وہ بھی حاصل کی جائینگی۔

سی ڈی اے حکام کے مطابق، ریگولرائزیشن کا عمل ایک منظم نظام کے تحت ہوتا ہے جو سائٹ ایریا اور فیس کے تعین کے بعد ہی منظور کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق، سائٹ میں مجموعی رقبہ، مخصوص گھر کا محل وقوع بشمول وضع کردہ سیٹ بیک، فرنٹ، ریئر سائیڈ، اور لنکیج شامل ہیں۔

عمران خان کے علاوہ، کئی دیگر اہم شخصیات نے سی ڈی اے سے رابطہ کرکے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے تاکہ بنی گالا میں ان کا گھر بھی ریگولرائز ہو سکے۔ ان افراد میں طارق فاطمی، بریگیڈیئر وسیم افتخار چیمہ اور احسان غنی شامل ہیں۔ اس معاملے پر پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کو دو ہفتے قبل سوالنامہ بھیجا تھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…