اتوار‬‮ ، 11 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کا ادب سے کوئی تعلق نہیں، ہرحکومت میں عوام کو جانور سمجھا گیا،انور مقصود

datetime 6  دسمبر‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)پاکستان کے معروف مصنف اور ڈرامہ نگار انور مقصود نے کہا ہے کہ پاکستان کا ادب سے کوئی تعلق نہیں، ہرحکومت میں عوام کو جانور سمجھا گیا۔آرٹس کونسل میں منعقدہ 15ویں عالمی اردوکانفرنس کے اختتامی اجلاس میں معروف مزاح نگار انور مقصود نے اکیسویں صدی کا پاکستان کے حوالے سے مخصوص دلچسپ انداز میں کہا کہ اسٹیج پر آنے سے قبل مجھ سے احمد شاہ نے کہا کہ

آپ نے نئے آرمی چیف کی تعریف کرنی ہے ، احمد شاہ سب سے کہتے ہیں ادب پر بات کریں مجھ سے کہتے ہیں پاکستان پر بات حالانکہ پاکستان کا ادب سے کوئی تعلق نہیں ۔انہوں نے کہاکہ احمد شاہ صاحب کہتے ہیں لوگوں کو خوش کرو میں کہتا ہوں حکومت کا کام مجھ سے کیوں کراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل کراچی کے صدر احمد شاہ نے جتنے بڑے بڑے کام کئے اس کے لیے تمغہ امتیاز کی ضرورت نہیں تھی، وہ اس بے ادبی کے دور میں علم و ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں، یہ ایک تمغہ جو ان لوگوں کو بھی مل جاتا ہے جنہوں نے کچھ نہیں کیا ۔انور مقصود نے کہا کہ باجوہ صاحب نے اپنی الوداعی تقریر میں کہا تھا فوج نے فیصلہ کیا ہے وہ سیاست سے پرہیز کرے گی اس کا مطلب ہے 74 برس فوج نے سیاست سے بدپرہیزی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 60 فیصد غریب ہیں اور 40 فیصد فوج ہے، امیروں کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں جب قرضہ مل جاتا ہے تو ایوان تالیوں سے گونج اٹھتا ہے۔ میں مزید کچھ الٹا سیدھا بول کر اپنے کپڑے پنجاب پولیس سے نہیں اتروانا چاہتا۔انور مقصود نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم چھ سات ملکوں کے سامنے ہاتھ پھیلا چکے ہیں، پاکستان میں غریب حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ ہمیں بدنام نہ کریں باہر جا کر اپنے لئے مانگیں۔انہوں نے کہا کہ ہر حکومت نے غریبوں کو جانور سمجھا، بھئی کتنا کمائو گے، کتنا لوٹو گے، کتنا جھوٹ بولو گے؟ غریب تو اب کہتے ہیں آپ کی طاقت کے سوا اب کوئی طاقت نہیں، کچھ بچا ہی نہیں میرے لیے جنت کے سوا۔

انہوں نے کہاکہ ان لوگوں کو عوام کا خیال صرف الیکشن کے دنوں میں آتا ہے، سائرن بجا کر لوگوں کو بھگا دیا جاتا ہے اور بریانی کے پیکٹ پھینک دیئے جاتے ہیں۔انور مقصود نے کہا کہ پہلے عالمی اردو کانفرنس میں ہندوستان سے شاعر اور ادیب آتے تھے اب صرف دھمکیاں آرہی ہیں،

پاکستان میں بہت غربت اور بدحالی ہے کسی کو احساس ہی نہیں ہم کیا کر رہے ہیں۔اختتامی اجلاس کے مہمان خصوصی گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری تھے جبکہ اجلاس میں کمشنر کراچی محمد اقبال میمن، سیکریٹری آرٹس کونسل پروفیسر اعجاز فاروقی اور گورننگ باڈی کے دیگر اراکین سمیت معروف شاعر، ادیب اور دیگر نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…