افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے پر حملہ طالبان حکومت نے خاموشی توڑ دی

  ہفتہ‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2022  |  15:24

کابل(شِنہوا)طالبان کے زیرانتظام نگران حکومت نے کابل میں پاکستان کے سفارتخانے پر حملے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور ملک میں قائم سفارتی مشنوں کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔افغان انتظامیہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے

ٹویٹ کیا کہ امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان کے سفارتخانے پر ناکام حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور بدنیت عناصر کو کابل میں سفارتی مشن کی سلامتی کیلئے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گی۔گزشتہ روز کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں مشن کا ایک محافظ زخمی ہوا تاہم مشن کے سربراہ محفوظ رہے ہیں۔کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے حملے کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جمعہ کی سہ پہر کارتہ پروان کے ایک مکان سے پاکستانی سفارتخانہ پر فائرنگ کی گئی۔ سیکورٹی فورسز بروقت علاقے میں پہنچیں اور مکان سے ایک مشتبہ شخص کو 2 اسالٹ رائفلوں سمیت گرفتار کر لیا۔کسی گروہ یا افراد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے کسی مخصوص گروہ پر الزام عائد کیا گیا ہے۔خالد زدران نے مزید کہا کہ حملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس کے نتائج کو منظرعام پر لایا جائیگا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بشریٰ بی بی سے شادی

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎