پیر‬‮ ، 12 اکتوبر‬‮ 2026 

آرمی چیف کی تعیناتی پی ٹی آئی کا ردعمل آگیا

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ٗآئی ا ین پی )چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے چیف آف اسٹاف شبلی فراز کا کہنا ہےکہ ہم آرمی چیف کی تعیناتی میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔صحافی نے شبلی فراز سے سوال کیا کہ کیاصدر مملکت کی جانب سے آرمی چیف کی سمری میں رکاوٹ ڈالی جاسکتی ہے؟

اس پر شبلی فراز نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی میں تحریک انصاف کی جانب سےکوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔عمران خان نے جس طر ح کہا کہ ہم جو کریں گے آئین و قانون کے تحت کریں گے اور جو بھی عمل ہوگا وہ آئین و قانون کے تحت ہوگا۔یاد رہے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے لیفٹننٹ جنرل عاصم مینر کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق سمری صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کردی گئی ہے۔ دوسری جانب لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر پاک فوج کے اعلی عہدوں کی تعیناتی سے متعلق بیان جاری کیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جبکہ سمری منظوری کیلئے صدر مملکت کو ارسال کر دی گئی ہے۔ تعیناتی کے اعلان کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا وزیراعظم شہباز شریف نے سمری صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوادی ہے ،

وزیراعظم نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے پوری پریس ریلیز تفصیلی طور پر وزیراعظم آفس سے جاری کر دی جائے گی ۔یہ پریس ریلیز وزیراعظم آفس کی ہے میں شیئر نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے تحت معاملات طے پائے گئے ہیں، پوری امید ہے کہ صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس پر کوئی ایسا تنازعہ نہیں کھڑا کریں گے یہ معاملات آئینی طور پر طے پائے ہیں،

اس کو سیاسی نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے ۔آئین اور قانون کے تحت نقطہ نظر کو دیکھناان کا حق بنتا ہے ، یہ ایڈوائس کسی اور نہیں بلکہ وزیراعظم کی ہے ، صدر مملکت ادارے کے سپریم کمانڈر ہیں، صدر مملکت کو پاک فضائیہ ،نیوی اور فوج کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے ، یہ ایک مقدس فریضہ ہے ، آئین کے تحت اس فریضے کو نمٹائیں ، یہ ایڈوائس وزیراعظم کی ہے میری کنفرمیشن کی کوئی اوقات نہیں ہے آئین اور میرٹ کے مطابق تعیناتی کی جاری ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…