پیر‬‮ ، 04 مئی‬‮‬‮ 2026 

خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس عمرعطابندیال نے قومی احتساب بیورو(نیب) قانون میں ترامیم کے حوالے سے کہا ہے کہ خرابی قانون میں نہیں بلکہ اس کے غلط استعمال پر ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر 21 ویں سماعت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل جاری رکھے جبکہ چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے کرپشن ایک بیماری ہے، کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کے لیے لازم ہے اور معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ عدالت کے سامنے سوال ہے کہ ہم کہاں لائن کھینچیں کہ بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کرپشن سے سختی سے نمٹنا چاہیے، اس نتیجے پر عدالت پہنچتی ہے تو ہمارے پاس اس کا بینچ مارک کیا ہو گا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت روزانہ کی بنیاد پر بنیادی حقوق سے متصادم معاملات پر فیصلے کرتی ہے، کل کو ہمارے پاس ایک شہری کہے پاکستان میں کرپشن کا قانون نہیں تو ہم پارلیمنٹ کو کہہ دیں کہ ایک قانون بنا دیں۔جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ وہ شہری پھر آ کر کہے کہ کرپشن کے خلاف قانون سخت نہیں لوگ چھوٹ رہے ہیں، سخت قانون بنانے کی ہدایت دیں تو پھر ہم سخت قانون بنانے کی ہدایت دے دیتے ہیں اور وہ شہری پھر آکر کہے کہ قانون ابھی بھی سخت نہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر یہی کرنا ہے تو پھر پارلیمنٹ کو ہم ہی چلا لیتے ہیں، پارلیمنٹ کو یہ کہنا کہ قانون کو مزید سخت بنائیں کیا یہ ہمارا کام ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے بڑا خطرہ پاکستان کے لیے اور کوئی نہیں، نیب قوانین سے زیادہ اہم بات موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کی ہے،

سارا پاکستان تباہ ہو رہا ہے، سیلاب اور قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کوئی شہری آ کر کہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے قانون سخت نہیں پارلیمنٹ کو حکم دیں۔عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرکے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کیا ایسا کرنا ہمارا کام ہے یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو اس سوال کے جواب میں عدالتی نظائر موجود ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مجھے بھی اس دن کا انتظار ہے، آپ کے دلائل کے آخری دن کے لیے بھی میرے پاس سوال ہیں تاہم انہوں نے مسکراتے ہوئے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ آپ کے دلائل کا آخری دن کون سا ہوگا۔چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ خواجہ حارث آپ نے بتایا کہ کرپشن سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں، طے یہ کرنا ہے کہ عدالت کے ایکشن کی کیا شدت ہونی چاہیے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم عوام اور منتخب نمائندوں کے مابین سماجی معاہدے اور آئین کے خلاف ہیں، موجودہ قانون کے تحت عوامی عہدیدار بطور ٹرسٹی احتساب سے نکل جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ درخواست میں اٹھائے گئے 4 سوالات سامنے رکھ کر جواب تلاش کریں تو یہ عوام کا زندگی، جائیداد، انسانی وقار کے خلاف ہے، کرپشن کے ناقابل احتساب ہونے سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ریکوڈک کے بارے میں صدارتی ریفرنس ایک اہم معاملہ ہے۔عدالت نے نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)


ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…