جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

شیخ رشید کے پاس لال حویلی پر کوئی عدالتی سٹے نہیں متروکہ وقف املاک کا اہم بیان سامنے آ گیا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی(این این آئی)متروکہ وقف املاک نے کہاہے کہ سابق وزیر شیخ رشید وقف املاک کے خلاف سول عدالت میں بھی گئے تاہم ان کی درخواست خارج ہو چکی ہے، فی الوقت شیخ رشید کے پاس لال حویلی پر کوئی عدالتی اسٹے نہیں ہے۔ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر وقف املاک آصف خان نے شیخ رشید کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وقف املاک کا شیخ رشید کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی بات ہے ۔

وقف املاک معمول کی کارروائی کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ملک بھر میں وقف املاک کی اراضی واگزار کروا رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ شیخ رشید وقف املاک کے خلاف سول عدالت میں بھی گئے لیکن ان کی درخواست خارج ہو چکی ہے، شیخ رشید نے وقف املاک کو بھی اپیل دائر کی ہے تاہم فی الوقت شیخ رشید کے پاس لال حویلی سمیت سات اراضی یونٹس پر کوئی عدالتی اسٹے نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کا لال حویلی اور اس سے ملحقہ 6 اراضی یونٹس پر غیر قانونی قبضہ ہے ان اراضیوں کو بھی واگزار کرایا جائیگا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق متروکہ وقف املاک راولپنڈی نے ایف آئی اے کے ہمراہ راولپنڈی میں وقف املاک کی متعدد اراضی واگزار کرانے کیلئے آپریشن کیا۔وقف املاک نے سرکاری اراضی واگزار کرانے کیلئے، کمشنر، سی پی او اور ڈپٹی کمشنر اور سیکرٹری وزارت داخلہ کو بھی رینجرز اور پولیس کی معاونت کیلئے خطوط ارسال کیئے تھے تاہم راولپنڈی پولیس نے متروکہ وقف املاک کی ٹیم کو معاونت سے انکار کر دیا۔

ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر وقف املاک راولپنڈی آصف خان، ایف آئی اے نفری کے ہمراہ تھانہ وارث خان پہنچے اور ایس ایچ او وارث خان سے وقف املاک کی اراضی خالی کرانے کیلئے پولیس نفری مانگی، ایس ایچ او وارث خان نے نفری دینے سے انکار کر دیا اور روزنامچے میں اندراج بھی نہیں کیا۔ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر نے ایف آئی اے ٹیم کے ہمراہ وقف املاک کی متعدد اراضی خالی کرانے کیلئے آپریشن کیا جس میں محکمہ ایجوکیشن راولپنڈی کا دفتر بھی شامل ہے جو ساڑھے پانچ کنال اراضی پر مشتمل ہے۔محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر ایجوکیشن شیر احمد ستی نے وقف املاک سے دو دن کی مہلت مانگ لی اس کے علاوہ اقبال روڈ اور موتی بازار میں کمرشل دکانیں اور ایک سکول کو واگزار کرانے کیلئے آپریشن کیا گیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…