تاحیات نااہلی آئین کا حصہ نہیں بلکہ عدالتی تشریح ہے، جسٹس لودھی

  جمعرات‬‮ 6 اکتوبر‬‮ 2022  |  11:57

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال نے منگل کے روز پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل وائوڈا کی تاحیات نااہلی کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کیخلاف

ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران یہ آبزرویشن دی کہ آئین کے آرٹیکل 62(ون)(f) کے تحت تاحیات نااہلی ایک کالا اور ڈریکونین قانون ہے۔روزنامہ جنگ میں  حنیف خالد کی خبر کے مطابق اس آبزرویشن کے قانونی پہلوئوں پر ماہرانہ رائے لینے کیلئے  جب لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج مسٹر جسٹس (ر) عباد الرحمان لودھی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تاحیات نااہلی آئین کا حصہ نہیں بلکہ عدالتی تشریح ہے جج کو دوران سماعت اتفاقی اور ضمنی تبصروں سے گریز کرنا چاہئے کسی مقدمہ کی سماعت کے دوران فاضل جج کی طرف سے اس نوعیت کے تبصرہ کو (Obiter Dictum) کہا جاتا ہے اور آکسفورڈ ڈکشنری کی جانب سے اس قانونی اصطلاح کو اردو زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ’’جج کی جانب سے ایسا اظہار رائے جو خواہ عدالت میں کیا جائے اور بے شک فیصلے کے ضمن میں کیا جائے لیکن فیصلے کا حصہ نہ ہو‘ تو وہ غیر موثر شمار ہو گا‘



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎