اسلام آباد ہائی کورٹ ہمیشہ زبردست فیصلے کرتی ہے، عمران خان

  پیر‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2022  |  20:18

اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ بندوق کے زور پر مذاکرات نہیں ہو سکتے،سیاست دانوں سے بات چیت کے لئے تیار ہوں لیکن چوروں سے نہیں،چیف الیکشن کمشنر کرپٹ ترین انسان ہے،ملک میں طاقت ور اور کمزور کیلئے الگ الگ قانون ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت میں صحافیوں

سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سیاست دان بات چیت کیلئے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتا ہے،میرے دروازے بھی سیاست دانوں کے لئے کھلے ہیں،جب مذاکرات چل رہے ہوں تو خاموش رہنا اچھا ہوتا ہے سیاست دانوں سے بیٹھ کر بات کی جا سکتی ہے لیکن چوروں سے نہیں،بندوق کے زور پر بات چیت نہیں ہو سکتی۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ کچھ پتہ نہیں ججز کیا فیصلہ دیں گے روسٹرم پر جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب وہ صرف مسکرا دیئے۔مریم نواز کے پاسپورٹ کی واپسی سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ لوگ موجودہ سسٹم سے تنگ آ چکے ہیں،ملک میں ایک چیز واضح ہو گئی ہے کہ طاقتور کیلئے الگ قانون ہے اورکمزور کے لئے الگ۔ایک اور سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف ایک ہی ایف آئی آر رہ گئی ہے اور وہ ہے چائے میں روٹی ڈال کر کھانے کی ہے اب وہ بھی بنا دیں۔صحافی نے سوال کیا کہ پارلیمنٹ میں کب جارہے ہیں جس کا مختصر جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ قومی اسمبلی میں نہیں بیٹھیں گے،بعد ازاں عدالت کی جانب سے معافی ملنے کے بعد واپس پر صحافی نے سوال کیا کہ آپ کی معافی قبول ہوگئی ہے کیا کہنا چاہئیں جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اسلا آباد ہائی کورٹ نے بہت اچھا فیصلہ دیا ہے انہوں نے پہلے بھی بہت زبردست فیصلے کئے ہیں۔ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ خان صاحب خاتون جج کی طرح چیف الیکشن کمشنر سے بھی معافی مانگیں گے جس کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کرپٹ ترین انسان ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎