مذاکرات کے دوران بات باہر نہیں کرنی چاہیے، عمران خان

  پیر‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2022  |  19:59

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہاہے کہ بس یہ کیس مجھ پر بننا باقی ہے کہ چائے میں روٹی ڈبو کر کیوں کھاتا ہے،چوروں کو دوسری مرتبہ این آر او دیا جارہاہے،سیاسی جماعتوں سے بات کی جاسکتی ہے مگر مجرموں سے نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر

غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح چوروں کو دوسری بار این آر او دیا جا رہا لوگ مایوس ہیں،آج لوگوں میں مایوسی پھیل چکی ہے۔صحافی کی جانب سے مریم نواز کو پاسپورٹ واپس ملنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہاکہ یہ واضح ہو گیا ہے اس ملک میں رْول آف لا نہیں،اسمبلی میں ہم واپس نہیں بیٹھیں گے،ہم سیاسی لوگ ہیں سیاسی لوگ بات ہی کرتے ہیں بندوق نہیں اٹھاتے،بات سیاسی لوگوں سے ہی ہو گی مجرموں کے ساتھ نہیں۔طاقتور لوگوں سے بات چیت کی خبروں سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہاکہ سیاستدان بات چیت کی جاسکتی ہے مگر مجرموں سے بات نہیں ہو گی،سیاستدان کے بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران بات باہر نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ مجھ پر صرف ایک کیس باقی رہ گیا ہے جو اس حکومت نے نہیں بنایا،عقلمندی کا ثبوت ہے کہ جب بات چیت چل رہی ہو تو عقلمندی کا ثبوت ہے کہ خاموش رہا جائے،بس یہ کیس مجھ پر بننا باقی ہے کہ چائے میں روٹی ڈبو کر کیوں کھاتا ہے۔ٹیلی تھون رقم سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہاکہ ٹیلی تھون سے جمع رقم ہفتے سے لوگوں مین تقسیم کریں گے،ٹیلی تھون سے جمع رقم سب صوبوں میں تقسیم کی جائیگی، عمران خان نے سائفر کی کاپی غائب ہونے سے متعلق سوال پرصرف مسکرا کرخاموش ہو گئے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎