جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

مذاکرات کے دوران بات باہر نہیں کرنی چاہیے، عمران خان

datetime 3  اکتوبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہاہے کہ بس یہ کیس مجھ پر بننا باقی ہے کہ چائے میں روٹی ڈبو کر کیوں کھاتا ہے،چوروں کو دوسری مرتبہ این آر او دیا جارہاہے،سیاسی جماعتوں سے بات کی جاسکتی ہے مگر مجرموں سے نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر

غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح چوروں کو دوسری بار این آر او دیا جا رہا لوگ مایوس ہیں،آج لوگوں میں مایوسی پھیل چکی ہے۔صحافی کی جانب سے مریم نواز کو پاسپورٹ واپس ملنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہاکہ یہ واضح ہو گیا ہے اس ملک میں رْول آف لا نہیں،اسمبلی میں ہم واپس نہیں بیٹھیں گے،ہم سیاسی لوگ ہیں سیاسی لوگ بات ہی کرتے ہیں بندوق نہیں اٹھاتے،بات سیاسی لوگوں سے ہی ہو گی مجرموں کے ساتھ نہیں۔طاقتور لوگوں سے بات چیت کی خبروں سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہاکہ سیاستدان بات چیت کی جاسکتی ہے مگر مجرموں سے بات نہیں ہو گی،سیاستدان کے بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران بات باہر نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ مجھ پر صرف ایک کیس باقی رہ گیا ہے جو اس حکومت نے نہیں بنایا،عقلمندی کا ثبوت ہے کہ جب بات چیت چل رہی ہو تو عقلمندی کا ثبوت ہے کہ خاموش رہا جائے،بس یہ کیس مجھ پر بننا باقی ہے کہ چائے میں روٹی ڈبو کر کیوں کھاتا ہے۔ٹیلی تھون رقم سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہاکہ ٹیلی تھون سے جمع رقم ہفتے سے لوگوں مین تقسیم کریں گے،ٹیلی تھون سے جمع رقم سب صوبوں میں تقسیم کی جائیگی، عمران خان نے سائفر کی کاپی غائب ہونے سے متعلق سوال پرصرف مسکرا کرخاموش ہو گئے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…