شہباز، زرداری اور فضل الرحمان کو کلین بولڈ کرنے جارہا ہوں، عمران خان

  اتوار‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2022  |  22:30

کرک (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز شریف کی آڈیو ٹیپ شرمناک ہے، چوروں کو بیرونی سازش کے تحت ملک پر مسلط کیا گیا، حقیقی آزادی کی جنگ سب پر فرض ہے، اس بار ایک بال سے تین وکٹیں گراؤں گا، حکمران کسی غلط فہمی میں نہ رہیں قوم اپنا فیصلہ کر چکی ہے،

قوم نکلنے کے لیے تیار ہے اسے صرف ایک کال کا انتظار ہے اور یہ ہمارا آخری اور فیصلہ کن مارچ ہوگا۔نوجوان ساتھ دیں، ان کا مقابلہ کریں گے۔کرک میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم ان چوروں کی غلامی کبھی قبول نہیں کریں گے، میں حقیقی آزادی کی تحریک چلا رہا ہوں، موبائل فون پر کسی نے شہباز شریف کی آڈیو لیک سنی ہے؟، مریم نواز داماد کیلئے ہندوستان سے پاور پلانٹ کی مشینری امپورٹ کروا رہی تھی، آدھی آگئی، تھوڑا صبر کرنا پڑتا ہے سچ سامنے آجاتا ہے، آڈیو میں 3 چیزیں سامنے آئی ہیں، مریم نواز سے سچ نہیں بولا جاتا، ان کے اوپر1100 ارب کے کیسز تھے، آپ سب کا فرض ہے حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بنیں، نوجوانو! آپ نے میرا ساتھ دینا ہے ان کا مقابلہ کرنا ہے، ان چوروں کی غلامی کرنے سے بہتر مرجانا ہے، جب یہ حکمران تھے تو400 ڈرون حملے ہوئے، جن کی جنگ میں ہم شامل تھے انہوں نے400 ڈرون حملے کیے، آزاد انسان اوپر جاتے ہیں غلام ملک ترقی نہیں کرتے، جنہوں نے ان کو مسلط کیا ان کو معلوم ہے یہ حکم مانیں گے، بیرونی سازش کے تحت ان کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا، حقیقی آزادی ہمارا مقصد ہے، غلام کی عزت نہیں ہوتی، پاکستان کے بڑے بڑے ڈاکوؤں کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت مجھے تین وکٹیں نظر آرہی ہے، ایک بیماری وہ ہے جس کا نام زرداری ہے، دوسری شہباز شریف ہے، جو جہاں بوٹ دیکھتا ہے پالش شروع کردیتا ہے،

تیسری وکٹ فضل الرحمان کی ہے، جس نے پیسے کمانے کے لئے اپنے بیٹے کو مواصلات کی وزارت دلوائی، ان تینوں کے لئے سوئنگ تیار ررکھی ہے، ایک ہی گیند میں تینوں کو کلین بولڈ کرونگا۔عمران خان نے کہا کہ 4 سال پہلے اعتماد تھا کہ شاہد خٹک الیکشن جیت جائے گا، 4 سال پہلے یہاں جلسہ کیا تھا، مریم نواز موجودہ حکومت میں ناجائز کام کروارہی ہے،

یہ ایسے لوگ ہیں پیسے کے لیے کشمیریوں کی قربانیوں کو نظرانداز کرسکتے ہیں، یہ اقتدار میں صرف پیسہ بنانے آتے ہیں، یہ جب بھی اقتدار میں آئے ملکی قرضے بڑھ گئے، ملک مقروض ہو گیا یہ اور ان کا خاندان ارب پتی بن گیا، اقتدار کے ذریعے ذات کو فائدہ پہنچانے کو کرپشن کہتے ہیں، اقتدار میں آپ خود کا نہیں عوام کا فائدہ کراتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ لندن تو چھوڑو پاکستان میں بھی بیچاری کی کوئی جائیداد نہیں،

مریم نواز اپنے داماد کے لیے بھارت سے مشینری امپورٹ کروا رہی تھی، آدھی مشینری آگئی ہے آدھی کی سفارش کررہی ہے، مجھے 3 وکٹیں نظر آرہی ہیں، ایک ہے بیماری وہ ہے زرداری، بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، دنیا میں کوئی ادارہ میرٹ کے علاوہ کامیاب نہیں ہوتا، ہم الیکشن کی طرف جائیں گے اور ان مافیاز کو شکست دیں گے، بھیک مانگ کر ترقی کرنا ہوتی تو کب کی کرچکے ہوتے،

ہمارا وزیراعظم دوسرے ملکوں میں جاکر پیسہ مانگ رہا ہے، کمزور کے لیے الگ اور طاقتورکے لیے الگ قانون بنا ہوا ہے، 30 سال سے یہ دو خاندان ملک پر مسلط ہیں۔سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بھارت اور بنگلا دیش ہم سے آگے نکل گئے، ہم نے کبھی آگے بڑھنے کا نہیں سوچا کبھی آمدنی بڑھانے کا نہیں سوچا، میں اب پوری تیاری کررہا ہوں، حقیقی آزادی کی تحریک آخری اور فیصلہ کن ہوگی، قاتل رانا ثنا اور شہبازشریف کے لیے بھی پوری تیاری کررہا ہوں،

کہتا ہے میں مانگنے نہیں آیا لیکن مجبوری ہے، میری قوم نکلنے کے لیے تیا رہے، حقیقی آزادی کی تحریک کے لیے پورے پاکستان میں جارہا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے فیصلے کو ختم کیا، ان کے دور میں بنگلہ دیش اور بھارت ہم سے آگے نکل گئے، ان دو خاندانوں کو میرٹ کو پتہ ہی نہیں، مریم نواز موجودہ دورحکو مت میں ناجائز کام کرا رہی ہے، جب یہ اقتدار میں آئے تو ملک کے قرضے بڑھ گئے، عدلیہ کی آزادی کیلئے میں نے جیل بھی کاٹی۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎