جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

رانا ثنا اللہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ،سپریم کورٹ کے واضح ریمارکس

datetime 21  جولائی  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے مزید شواہد عدالتی ریکارڈ پر لانے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ میںجمعرات کو رانا ثنا اللہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری نے رانا ثنا اللہ کے بیان کے ٹرانسکرپٹ پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رانا ثنا اللہ نے ہمارے بندے اِدھر ادھر کرنے کا بیان دیا، ہمارے رکن اسمبلی مسعود مجید کو 40 کروڑ میں خرید کر ترکی اسمگل کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)سے تعلق رکھنے والی راحیلہ نامی خاتون نے ہمارے 3ارکان اسمبلی سے رابطہ کیا، عطا تارڑ نے بھی ہمارے 3ارکان اسمبلی کو25 کروڑ کی آفر کی۔جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ آپ کے رکن اسمبلی کے ساتھ راحیلہ کی بات کس تاریخ ہوئی؟ اصل بیان حلفہ کدھر ہے؟ اس پر فیصل چوہدری نے جواب دیا کہ اصل بیان حلفی لاہور میں ہیں۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آئی ایم سوری، اس کا مطلب ہے آپ کو بھی علم نہیں، تینوں بیان حلفی پر عبارت ایک جیسی ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ہمارے یکم جولائی کے حکم کی کیا خلاف ورزی ہوئی، عطا تارڑ اور راحیلہ کے خلاف آپ کی توہین عدالت کی درخواست نہیں۔

فیصل چوہدری نے عدالت سے راحیلہ اور عطا تارڑ کیخلاف سوموٹولینے کی استدعا کی تو جسٹس منیب اختر نے کہا سوموٹو لینا چیف جسٹس کا اختیار ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اگرریاستی مشینری کی جانب سے بندے اٹھائے جائیں تو یہ فوجداری جرم ہوگا اور توہین بھی اس وقت ہی ہوگی، کسی جرم کو ہونے سے پہلے فرض نہیں کر سکتے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے پرویز الہی کے وکیل کو توہین عدالت سے متعلق مزید شواہد ریکارڈ پر لانے کی ہدایت کردی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ توہین عدالت کا جو الزام لگایا ہے اس کو ثابت کریں تاکہ پتا چلے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم یہاں پر بیٹھے ہیں اور ہماری آنکھیں بند نہیں۔

ہماری نظر اپنے حکم نامے اور قانون پر ہے۔فیصل چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ارکان اسمبلی کی کامیابی کا نوٹی فکیشن نہیں جاری کیا، الیکشن کمیشن سے ہمارے حالات کشیدہ ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے رہمارکس دیئے کہ آپ کے حالات الیکشن کمیشن سے کشیدہ ہوں گے مگر ہمارے ساتھ تو نہیں۔بعد ازاں عدالت نے رانا ثنا اللہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…