پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

سابق امپائر لنڈے بازار میں سیکنڈ ہینڈ چیزیں بیچنے لگ گیا

datetime 24  جون‬‮  2022 |

لاہور (این این آئی)سابق آئی سی سی ایلیٹ امپائر اسد رؤف کی لنڈے بازار میں دکان کے حوالے سے ویڈیوز وائرل ہوگئیں اور ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ سابق ایلیٹ امپائر غربت سے تنگ آکر لنڈے بازار میں دکان کھولنے پر مجبور ہو گئے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے،اسد رؤف جب ایلیٹ امپائر تھے وہ تب بھی اعلیٰ معیار کی سیکنڈ ہینڈ چیزیں بیچنے کا کاروبار کرتے تھے۔

اسد رؤف نے ایک انٹرویومیں کہا کہ آج کل کچھ اس طرح سے میری کہانی بیان کی جا رہی ہے کہ خدا نخواستہ میں بہت برے حالات میں ہوں اور غربت کی وجہ سے میں لنڈے بازار میں کام کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ میں تو یہ ایلیٹ چیزوں کا کام اس وقت بھی کرتا تھا جب میں ایلیٹ امپائر تھا۔ امپائرنگ ہوائی روزی ہے آج ہے تو کل نہیں تو ایسے میں، میں نے سیکنڈ ہینڈ چیزوں کا کام ساتھ میں شروع کر دیا ، جوتے کپڑے اور بیگز ایسے کہ کہیں سے نہ ملیں،کراکری کا کام بھی کرتا ہوں اور کراکری میں ایسی چیزیں بھی شامل ہیں جو شاہی خاندان میں بھی استعمال ہوتی رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ جو چیزیں منگواتا ہوں انہیں ویسے ہی بیچنا شروع کر دیتا ہوں، میرا ایک وئیر ہاؤس ہے، وہاں تمام چیزیں پراسیس ہوتی ہیں اور ایک پراسیس کے بعد یہاں اسٹور کی زینت بنتی ہیں اور پھر لوگ دور دور سے آتے ہیں۔اسد رؤف کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ چیزیں ہر کسی کے بس میں نہیں ہیں اور ان امپورٹڈ چیزوں کے نمبر ایک اور نمبر دو ہونے کا بھی نہیں پتہ جبکہ میرے پاس اعلیٰ برینڈز کی اچھی حالت میں اصلی چیزیں دستیاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں سیکنڈ ہینڈ کاروبار میں آر محسوس نہیں کرتا، مجھے فخر ہے کہ میں یہ کاروبار کر رہا ہوں جو میرے خاندان میں کسی نے نہیں کیا اور نہ اس کا سوچا ہے۔ میں اپنے کاروبار سے بہت مطمئن ہوں، اس میں زیادہ سرمایہ کاری کی بھی ضرورت نہیں ہے جبکہ منافع کا مارجن بھی بہت زیادہ ہے۔اسد رؤف نے کہا کہ میں نے 57 برس کی عمر تک ایلیٹ امپائرنگ کی

، پھر مجھے اس سے کچھ حالات کی وجہ سے الگ ہونا پڑا، میرا بیٹا بیمار ہے ، فٹنس مسائل بھی تھے، میرے سننے کی صلاحیت بھی کم ہو رہی تھی۔

جہاں تک بھارت میں تنازعات کا تعلق ہے ایسا ممکن نہیں ہے کہ آپ بھارت میں ہوں اور تنازعات جنم نہ لیں، میں بالکل کلیئر تھا اور نہ ہی میں نے کرپشن کی تھی

۔سابق امپائر نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے بہت کچھ ہو رہا ہے اور یہ اچھی بات ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیسٹ امپائرز کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے اور ان کی ویلفیئر کا کام بھی کرنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…