جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، جیل میں بھی ڈالا جا سکتا ہے، شیخ رشید

datetime 13  اپریل‬‮  2022 |

پشاور(مانیٹرنگ، این این آئی)سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا ہے کہ اتحادی ساتھ نہ بھی چھوڑتے تب بھی ہماری حکومت نے جانا ہی تھا،جو لوگ منخرف ہوگئے وہ کس منہ سے سیاست کرینگے، ہم نے عمران خان کا ساتھ دیا ہم اتحادی ہے اسلئے استعفی عمران خان کو دیا ہے انٹرنیشنل طاقتیں عمران خان کی جان لے سکتے ہیں عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا عمران خان کو جیل میں بھی ڈالا جا سکتا ہے،

پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہاکہ عمران خان کی آزاد خارجہ پالیسی کو روکنے کے لئے کرائے کے ٹٹو لائے گئے ہیں، اتحادی ساتھ نہ بھی چھوڑتے تب بھی ہماری حکومت جاتی، جو لوگ منخرف ہوگئے وہ کس منہ سے سیاست کرینگے، ہم نے عمران خان کا ساتھ دیا ہم اتحادی ہے اسلئے استعفی عمران خان کو دیا ہے انٹرنشنل طاقتیں عمران خان کی جان لے سکتے ہیں عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔شیخ رشید نے کہا کہ ایک سازش کے تحت ہمارے عظیم فوج کے خلاف پروپیگنڈا ہورہا ہے، اور یہ سب کچھ بوٹ پالش والے کی وجہ سے ہورہا ہے، یہ لندن میں بیٹھ سازش کرتے رہے، جنہوں نے لندن اور گجرنوالہ سے فوج کو گالیاں دیں اگر ان کی بات ہوسکتی ہے تو ہمیں بھی کرنا چاہیئے، یہ ہماری فوج ہے اور ہم فوج کے ساتھ ہے، جن لوگوں پر فرد جرم عائد ہونا تھا اسی دن انھوں نے حلف اٹھایا،اب ڈالروں کی بارش ہوگی اور غیر ملکی تواتر کے ساتھ پاکستان کے دورے کریں گے۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اب یہ لوگ نواز شریف کو لے کر آئیں گے، پہلے عمرہ کا چکر لگوایا جائے گا پھر وہ عمرہ کرکے پاک صاف ہوکر پاکستان آئیں گے، اور انہیں اب نئے پلیٹ لٹس لگا دیئے جائیں گے۔شیخ رشید نے کہا کہ وہ ہمیں سلیکٹڈ کہہ کر انتخابات کا مطالبہ کرتے تھے، اب حالات بدل گئے ہم ایمپورٹڈ کہہ کر الیکشن کا مطالبہ کررہے ہیں، 15 جون تک کا ٹائم دیتا ہوں،

عمران خان اسلام اباد آنے کی کال دے گا، 29 جون تک وقت ہے آپ بھی دیکھ لیں۔ باچا خان اور ولی خان سے میرا ذاتی تعلق تھا، اسفندیار ولی کس باغ کی مولی ہے، اور ایمل کانسی کو تو میں جانتا تک نہیں ہوں، جن کو مسنگ پرسن کا مسئلہ تھا آج وہ انہی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…