جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

روزے سے شوگر،ہارٹ، اعصابی بیماریوں سے چھٹکارہ ممکن ،ماہرین کی تحقیق میں زبردست انکشاف

datetime 11  اپریل‬‮  2022 |

لندن(این این آئی) نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی جائزے میں کہاگیاہے کہ رمضان المبارک کے روزوں کی طرح وقفے وقفے سے روزہ رکھنے سے موٹاپا، ذیابیطس، قلبی امراض، کینسر اور اعصابی بیماریوں سے نجات میں بہتری آ سکتی ہے کیونکہ طویل عرصے تک کھانے سے پرہیزسے جسم مختلف ذرائع سے توانائی استعمال کر سکتا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی جائزے میں کہاگیاکہ رمضان المبارک کے روزوں کی طرح وقفے وقفے سے روزہ رکھنے سے موٹاپا، ذیابیطس، قلبی امراض، کینسر اور اعصابی بیماریوں سے نجات میں بہتری آ سکتی ہے کیونکہ طویل عرصے تک کھانے سے پرہیزسے جسم مختلف ذرائع سے توانائی استعمال کر سکتا ہے۔اگرچہ جسمانی ضرورت کے لیے توانائی عام طور پر جگر میں ذخیرہ شدہ گلوکوز سے لی جاتی ہے، وقفے وقفے سے روزہ میٹابولزم کو تبدیل کرتا ہے تاکہ چربی میں ذخیرہ شدہ کیٹونز اس کی بجائے استعمال کیے جاتے ہیں۔یہ عمل، جسے کیٹوجینیسیس کے نام سے جانا جاتا ہے،سوزش کو دبانے اور تنا کے خلاف جسم کے ردعمل کو بہتر بنانے سمیت وسیع تر فوائد کاحامل ہے۔جرنل آف ریسرچ ان میڈیکل سائنسزمیں 2014 کے جائزے کے مطابق رمضان کے روزے مدافعتی نظام کو فروغ دے سکتے ہیں، کولیسٹرول کو کم کر سکتے ہیں اور وزن میں کمی کا سبب بنتے ہیں۔تاہم 2009 سے 2014 تک شائع شدہ مطالعات کے جائزے میں یہ بھی بتایا گیا کہ لوگوں کے لیے اگلے ماہ یعنی شوال المکرم میں کھانے کی معمول کی عادات کی طرف لوٹنے کے بعد رمضان میں کم ہونے والے کسی بھی وزن کو دوبارہ حاصل کرنا عام بات ہے۔اگرچہ بہت سے مطالعات روزے کے مثبت اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن ان میں بہت سے لوگوں میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ خوراک اور پانی سے پرہیز کے طویل مدتی اثرات کی جانچ کے لیے بہت کم ثبوت فراہم ہوئے ہیں۔چناں چہ جہاں بہت سے مسلمان اس مقدس مہینے میں اللہ کا قرب محسوس کرتے ہیں،وہیں سائنسی مطالعات سے پتاچلتا ہے کہ صحت کا یہ شخصی احساس جسم کی کیمسٹری میں بھی عملی طور پرظاہرہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…