ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

لاہور میں ’وزیراعظم پاکستان شہباز شریف‘ کے بینرز آویزاں ہو گئے

datetime 18  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آئی این پی )لاہور میں پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ پنجاب کے بعد شہباز شریف کے وزیراعظم پاکستان کے بینرز بھی آویزاں ہو گئے۔چند روز قبل مسلم لیگ ق کے مرکزی دفتر کے باہر ’پنجاب کی مجبوری ہے، پرویز الٰہی وزیراعلیٰ ضروری ہے‘ کے بینرز دیکھے گئے تھے۔

نجی ٹی وی جیو کے مطابق اب شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر لاہور کی احتساب عدالت کے باہر ان شاءاللہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی تصویر کے پینا فلیکس آویزاں کیے گئے ہیں۔بورڈز پر “وقت کی مجبوری ہے، شہباز شریف ضروری ہے” کے نعرے درج ہیں۔پوسٹرز پر شہباز شریف کے علاوہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز کی تصاویر بھی واضح ہیں۔احتساب عدالت کے مرکزی گیٹ کے ساتھ بھی ان شاء اللہ وزیراعظم پاکستان کے فلیکسز نصب کیے گئے ہیں۔احتساب عدالت کی جانب آنے والے راستوں پر بھی شہباز شریف کے بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ مسلم لیگ(ق)کے کارکنان نے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلی ٰ پنجاب بنوانے کے لیے ان کے حق میں بینرز آوایزاں کرنا شروع کر دیئے جن پر’’پنجاب کی مجبوری ہے،پرویز الہی وزیر اعلیٰ ضروری ہے‘‘ درج کیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق چوہدری پرویز الہی کیلئے ق لیگ کے ورکرز بھی متحرک ہوچکے ہیں، کارکنوں نے ق لیگ کے مرکزی دفتر کے باہر وزیراعلی کے پینا فلیکس آویزاں کردئیے ہیں۔ ق لیگ کے سپورٹرز نے اہم شاہراہوں پر بھی پرویز الہی کے حق میں پینا فلیکس لگائے ہیں، جن پر آویزاں پینا فلیکس پر وزیراعلی پنجاب ضروری ہے چوہدری پرویز الہی کے الفاظ درج ہیں۔ پینافلیکس مسلم لیگ ق لاہور یوتھ ونگ صدر شیخ فیصل کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…