جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

مستقل اراکین میں اضافے سے سلامتی کونسل مزید مفلوج ہوجائے گی’پاکستان نے خبر دار کردیا

datetime 9  مارچ‬‮  2022 |

اقوامِ متحدہ(این این آئی) پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین شامل کرنے سے کونسل کے مفلوج ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ اقوامِ متحدہ پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے نیویارک میں ایک بین الحکومتی بات چیت کے غیر رسمی اجلاس میں اسلام آباد کی ترجیحات کو اجاگر کیا۔دہائیوں سے جاری یہ بحث گزشتہ ہفتے

دوبارہ تیزی اس وقت آئی جب روس نے امریکا کی پیش کردہ قرار داد ویٹو کردی تھی جس میں اس کی افواج کے یوکرین سے فوری انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔سلامتی کونسل میں روس، برطانیہ، چین، فرانس اور امریکا 5 مستقل اراکین ہیں جن کے پاس ویٹو پاور ہے۔پاکستان یونائیٹنگ فار کنسینسز (یو ایف سی) کا بنیادی رکن ہے جو 5 مستقل اراکین کو قبول کرتا ہے لیکن ان میں مزید اضافے کا مخالف ہے، اس کے بجائے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ غیر مستقل اراکین کی تعداد 20 کردی جائے۔سال 2005 میں تشکیل دیے گئے اس گروپ میں اب 120 سے زائد ریاستیں شامل ہیں جبکہ اٹلی اس کا کووآرڈینیٹر ہے۔اٹلی کے مندوب برائے اقوامِ متحدہ نے سلامتی کونسل میں یوکرین کے حوالے سے فیصلے میں پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘جیسا کہ چند روز قبل دیکھا گیا کہ ویٹو سلامتی کونسل کی کارکردگی کو بہت متاثر کرتا ہے اور اس کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو مفلوج کردیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ویٹو کو ختم کرنا سب سے بہترین اقدام ہوگا لیکن یو ایف سی ممالک جانتے ہیں کہ ایسا ہوگا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس لیے ویٹو کے معاملے پر مرحلہ وار نقطہ نظر اپنانے اور اس کے لیے طریقہ کار کی وضاحت کرنے کی کوشش سے اس اختیار کے حامل 5 ممالک کی جانب اس کا استعمال محدود کیا جاسکتا ہے۔منیر اکرم نے کہا کہ 75 سال قبل امن کی پائیداری کیلیے بنائے گی اصول اور ڈھانچہ اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور ویٹو پاور سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو ‘بین الاقوامی امن و استحکام برقرار رکھنے اور بحال کے کرنے لیے تعمیری اور اہم کردار ادا کرنے سے روکتی ہے۔انہوں نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی متعدد تجاویز کا حوالہ دیا جس میں 2 سالہ غیر مستقل نشست، طویل المدتی مستقل نشست، قابل انتخاب غیر مستقل نشست، خطوں کے لیے مستقل نشستیں، ہر ملک کے لیے مستقل نشست، ویٹو کے ساتھ مستقل نشست، ویٹو کے بغیر مستقل نشست یا مؤخر ویٹو اور ریاستوں کے ایک ایک زائد گروہ کے لیے تبدیل ہونے والی نشست وغیرہ شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم افریقہ، عرب ممالک اور او آئی سی کے رکن ممالک کے خلاف تاریخی ناانصافی کو ایڈجسٹ کرنے کے طور پر مختلف کنفیگریشنز میں مختلف علاقوں کی نمائندگی کے اختیارات پر بھی غور کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یو ایف سی تمام متعلقہ گروپوں کے ساتھ اپنے مقاصد کے حصول کو محفوظ بنانے کے طریقوں پر سمجھوتہ کرنے والے حل بھی تلاش کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…