جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

باپ کے ہاتھوں بیٹا پیدا نہ ہونے پر قتل ہونیوالی پہلی اولاد 7یوم کی مقتولہ بچی سپردخاک

datetime 8  مارچ‬‮  2022 |

سرگودھا(این این آئی)باپ کے ہاتھوں بیٹا پیدا نہ ہونے پر قتل ہونے والی پہلی اولاد سات یوم کی مقتولہ بچی کو پوسٹمارٹم کے بعد اس کے ننھیال گاؤں میں سپردخاک کر دیا گیا پولیس نے نانا کی مدعیت میں مقدمہ قتل درج کر لیا۔اس دلخراش واقعہ میں کمسن بچی کے قتل پر آئی جی پنجاب اور آر پی اونے ڈی پی او سے تفصیلات طلب کر لیں جبکہ سپیشل ٹیمیں تشکیل دے کر ملزم کو فوری کا حکم دے دیا گیا۔

زرائع کے مطابق سرگودھا ریجن کیضلع میانوالی کے محلہ نورپورہ میں باپ کے ہاتھوں کمسن بچی کی ہلاکت پر انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب راو سردار علی خان اور آر پی ا وسرگودھا ریجن ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے ڈی پی او میانوالی سے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔آر پی او نے ڈی پی او میانوالی کو ہدایت کی کہ دلخراش واقعہ میں ملوث ملزم کو سپیشل ٹیمیں تشکیل دے کر فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے اوراس کیس کی فالو اپ رپورٹ روزانہ آر پی او آفس کو فراہم کی جائے۔ آر پی او نے ڈی پی او میانوالی سے کہا کہ ویمن پولیس ہر وقت متاثرہ فیملی کے ساتھ رہے اور ان کی داد رسی کو یقینی بنایا جائے۔ ڈی پی او میانوالی نے آر پی او کو بتایا کہ کہ محلہ نور پورہ میں ملزم شاہ زیب کے ہاں سات یوم قبل بچی کی پیدائش ہوئی جبکہ ملزم شاہ زیب کو بیٹے کی خواہش تھی اسی رنج کی بنا پر اس نے 6مارچ کی رات 9بجے مسلح پسٹل کمرے میں داخل ہو کر اپنی سات یوم کی بچی جنت بی بی کو ماں کی گود سے چھین کر پسٹل سے فائر کیا اور موقع سے فرار ہو گیا۔کمسن بچی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی۔ جس پر تھانہ سٹی میانوالی میں مقتولہ کے نانا ہدایت اللہ خان کی مدعیت میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔جبکہ آر پی او فیصل رانا نے کہا کہ اس طرح کے بہیمانہ واقعات معاشرے کے منفی پہلو کی عکاسی کرتے ہیں، ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کمسن بچوں کا قتل یا زیادتی کسی صورت قابل برداشت نہیں۔آر پی او سرگودھا نے ڈی پی او میانوالی سے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے جاری آپریشن کو خود مانیٹر کریں۔چاروں ضلعی پولیس افسران بچوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کی ترجیحہی بنیادوں پر خود نگرانی کریں اور ان مقدمات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمات کو جلد یکسو کیا جائے۔ باپ کے ہاتھیوں قتل ہونے والی مقتولہ بچی کو ننھیال داود خیل میں نماز جنازہ کے بعد سپردخاک کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…