جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

ذوالفقار علی بھٹو،بے نظیربھٹواور اب بلاول بھٹو کے لانگ مارچ میں شرکت کرنے والا جیالا

datetime 8  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سومار بجلی پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن ہیں ، جنہوں نے ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو،بے نظیربھٹوکے جلسے ، ریلیوں میں شرکت کی اور اب بلاول بھٹوکے لانگ مارچ میں بھی شریک ہیں ، سومار کہتے ہیں کہ بھٹو نے مجھے بجلی کا نام دیا تھا،میں پھرتیلا تھا، بھاگتا تھا ، نعرے مارتا تھا،بھٹو نے کہا یہ ہمارا بجلی ورکر ہے ۔

وہ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں بھٹو کی ریلی میں شامل تھا جب انہوں نے لاہور سے ریلی نکالی ، ہالا آئے اور ہالا سے کراچی میں مزار قائد تک ہم ان کیساتھ تھے ، بھٹو جب سانگھڑ گئے تو وہاں گولی چلی ۔بھٹو نے اپنی شیروانی کو گلے سے پھاڑ کر جیپ کے بونٹ پر کھڑے ہو کر کہا کہ گولی مارنی ہے تو مجھے مارو، میرے ڈرائیور کو کیوں مارا،ہمارے غریب کو کیوں مارتے ہو، وہ دن بھی مجھے یاد ہے جب ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران بینظیر بھٹو کے ساتھ مارچ میں شرکت کی ، میرے خلاف کم ازکم ترانوے مقدمے درج ہوئے ، بینظیر میرے گھر پر آئیں، میری بیوی ، ماں اور بچوں سے ملیں ، انہوں نے کہاآپ پرواہ نہ کریں ، ہم ان کے ساتھ ہیں ، انہوں نے ہمیں دو وکیل دئیے ، 1988میں جتنے بھی کیس تھے وہ ختم ہوگئے ،موجودہ مارچ اور ماضی کے مارچوں میں جو فرق ہے وہ یہ کہ ایم آر ڈی والی ریلی میں ہم چنے لیکرچلتے تھے ، اپنوں سے چندا کرکے گاڑیاں کرتے تھے،ان گاڑیوں پر جلسوں اور ریلیوں میں جاتے تھے ، اپنے ذاتی خرچے پر جاتے تھے ، آج گاڑی بھی ملتی ہے ،رہائش بھی ملتی ہے اور کھانا بھی ملتا ہے،ہم اس میں خوش ہیں ، پہلے بھی خوش تھے ،آج بھی خوش ہیں ، آج کی ریلی اور ماضی کی ریلیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ،آج کی بلاول بھٹو کی ریلی جیسی ریلی ہم نے زندگی میں نہیں دیکھی ، یہ ریلی نیازی کو بھگائے گی ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…