بدھ‬‮ ، 28 جنوری‬‮ 2026 

یوکرین کی روس کے جہاز روکنے کی درخواست ، ترکی کا جواب آگیا

datetime 26  فروری‬‮  2022 |

انقرہ ،کیف (مانیٹرنگ ڈیسک ،آن لائن) ترکی نے یوکرین کی درخواست پر روس کے جہازوں کی بحیر ہ اسود تک رسائی روکنے سے انکار کردیا۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ عالمی معاہدے کی وجہ سے ترکی روسی جہازوں کی بحیر ہ اسود تک رسائی نہیں روک سکتا۔

بین الاقوامی معاہدے کی ایک شق جہازوں کو اپنے ہوم بیس پر واپس جانے کی اجازت دیتی ہے، اس لیے ترکی روسی جنگی جہازوں کو اپنی آبنائے کے ذریعے بحیرہ اسود تک پہنچنے سے نہیں روک سکتا۔خیال رہے کہ ترکی کا میری ٹائم بارڈر روس اور یوکرین کے ساتھ ملحق ہے اور روسی جہاز باسفورس اور داراندلس کی آبنائوں سے گزرتے ہیں۔ انقرہ میں تعینات یوکرینی سفیر ویسل بودنر نے کہا تھا کہ انہوں نے ان آبنائوں کے ساتھ ساتھ ترکی سے درخواست کی ہے کہ وہ روسی جہازوں کے لیے اپنی حدود بند کرے۔دوسر جانب یوکرین نے روس کے3500 فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی حکام کا کہنا ہے دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔ فوج نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کیخلاف جنگ میں شریک 3500 روسی فوجیوں کوہلاک اور200 کوگرفتارکرلیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج نے اب تک روس کے 14 طیارے،8 ہیلی کاپٹرز مارگرائے جبکہ 102 ٹینک تباہ کردئیے ہیں۔یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔ کیف کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…