بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان کی قومی اسمبلی کو آسیان بین الپارلیمانی اسمبلی (AIPA) میں مبصر کا درجہ حاصل ہوگیا

datetime 23  فروری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)آسیان بین الپارلیمانی اسمبلی (AIPA) میں قومی اسمبلی پاکستان کو مبصر کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ آسیان پارلیمانی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق برونائی داراسلام میں منعقد ھونے والی 42 ویں اے آئی پی اے کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی قومی اسمبلی کو بطور مبصر کا درجہ دینے کی منظوری دی ہے۔ اے آئی پی اے آسیان کے دس رکن ممالک کی

پارلیمانوں کے علاوہ سولہ مبصر پارلیمانوں پر مشتمل ہے جس میں اب پاکستان کی قومی اسمبلی بھی شامل ہے۔ اے آئی پی اے میں مبصر کے درجہ کا حصول سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی خصوصی دلچسپی اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اے آئی پی اے کا مقصد ممبر پارلیمانوں اور مبصر پارلیمانوں/پارلیمانی تنظیموں کے درمیان افہام و تفہیم، تعاون اور قریبی تعلقات کو فروع دینا ہے۔ آسٹریلیا، کینیڈا، چین، جاپان اور یورپی پارلیمنٹ سمیت اہم پارلیمانوں کی موجودگی سے، پاکستان اے آئی پی اے کے پلیٹ فارم کے ذریعے خطے اور عالمی پارلیمانوں کے ساتھ اپنے کثیر الجہتی تعلقات کو فروغ دے سکے گا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے 2017 میں اے آئی پی اے میں مبصر کے درجہ کے حصول کے لیے درخواست دی تاہم اے آئی پی اے کے چارٹر کے تحت غیر آسیان ممالک کو مبصر کا درجہ نہیں دیا سکتا تھا جس کی بنا پر اے آئی پی اے سیکرٹریٹ نے اس درخواست پر فیصلے کو کو موخر رکھا۔ اے آئی پی اے کے مبصر کے درجے کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوے قومی اسمبلی نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور سپیکر اسد قیصر کی قیادت میں مسلسل پارلیمانی سفارتکاری اور رابطوں کے نتیجے میں پاکستان کی قومی اسمبلی اے آئی پی اے کے ممبر ممالک کی رائے کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوء جس کے نتیجے میں مبصر کا درجہ حاصل ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…