منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

محنت کش کا گارمنٹس فیکٹری سے کام چھوڑنا جرم بن گیا، مالک کا جلاد بن کر بیٹے اور ملازموں کے ساتھ ملکر محنت کش پر تشدد

datetime 18  فروری‬‮  2022 |

بہاولنگر(این این آئی)محنت کش کا گارمنٹس فیکٹری سے کام چھوڑنا جرم بن گیا نجی گارمنٹس فیکٹری کے مالک کا جلاد بن کر بیٹے اور ملازموں کے ساتھ ملکر محنت کش پر وحشیانہ تشدد ،اغوا کے بعد فیکٹری میں بند کرکے سوٹوں اور ڈنڈوں سے محنت کش کا بھرکس نکال دیا۔شدید زخمی حالت میں اہل علاقہ نے ظالم فیکٹری مالک سے نجات دلوائی غریب ملازم شدید زخمی کو ڈی ایچ کیو پہنچا دیا

جہاں اسکی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے،پولیس نے فیکٹری مالک ملک ذوالفقار اسکے بیٹے اور ملازمین کے خلاف میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد مقدمہ تو درج کر لیا لیکن بااثر ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے۔تفصیلات کے مطابق حسین آباد کالونی میں نجی گارمنٹس فیکٹری کے مالک ملک ذوالفقار علی اسکے بیٹے حارث اور دیگر درجنوں غنڈوں نے غریب محنت کش شبیر احمد کو اس وقت پکڑ لیا جب وہ فیکٹری کے سامنے سڑک پر ٹف ٹائل لگوانے کا کام کروا رہا تھا شبیر احمد نے ظالم فیکٹری مالک ملک ذوالفقار علی کی فیکٹری سے کام چھوڑ دیا تھا جسکا اسے رنج تھا جس پر اس نے اور اسکے بیٹے نے دیگر 6کس نامعلوم الاسم ملزمان سے باہم صلاح و مشورہ ہو کر شبیر کو مارتے پیٹتے ہوئے زبردستی اغواء کرکے اپنی فیکٹری کے گودام میں لے گئے جہاں اس پر بہیمانہ تشدد کیا اور ڈنڈوں سوٹوں سے مار مار کر لہولہان کر دیا ڈنڈوں کے وار سے شبیر احمد کے سر پر شدید چوٹیں آئیں جس سے وہ موقع پر بہوش ہو گیا چیخ و پکار سن کر اہل علاقہ نے غریب محنت کش کی جان چھڑوائی اور اسے ڈی ایچ کیو ہسپتال داخل کرا دیا جہاں اسکی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف میڈیکل رپورٹ آنے پر پولیس تھانہ سٹی بی ڈویڑن نے مقدمہ تو درج کر لیا ہے مگر تاحال بااثر ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے غریب ورکر شبیر احمد کے والدین نے ڈی پی او محمد ظفر بزدار سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے محنت کش کو انصاف کیا جائے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…