ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

بڑھتے ہوئے کورونا کیسز، این سی اوسی نے مساجد اور عبادت گاہوں سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کر دیا

datetime 21  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا وائرس کے کیسز میں بتدریج اضافے کے پیش نظر مساجد اور عبادت گاہوں سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کردیا جس کے تحت مکمل ویکسینیشن لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ اس ضمن میں جاری اعلامیہ

میں کہا گیا کہ مساجد و دیگر عبادت گاہوں میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ مساجد سے کارپٹ ہٹادیے جائیں۔ این سی او سی کے مطابق صفوں اور نمازیوں کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ لازمی ہوگا جبکہ بزرگ اپنے گھروں میں عبادت اور نماز کو ترجیح دیں گے۔اعلامیہ کے مطابق مساجد میں دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھی جائیں گی اور وینٹی لیشن کا مناسب انتظام کیا جائے۔ این سی او سی نے زور دیا کہ نماز جمعہ کی ادائیگی بھی مختصر دورانیے میں کی جائے۔خیال رہے کہ ملک میں کورونا کی پانچویں لہر تیزی سے پھیل رہی ہے جان لیوا وائرس سے 24 گھنٹوں کے دوران مزید23 افراد انتقال کرگئے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کی تشخیص کے لیے 59 ہزار 343 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 7678 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…