اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

ہوشیار خبردار ٗ فراڈیوں نے شہریوں کو لوٹنے کا انوکھا طریقہ اپنا لیا

datetime 26  دسمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کے ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھنے والے فراڈیئے شہریوں کو لوٹنے کے نت نئے طریقے اپناتے رہتے ہیں۔ پہلے احساس پروگرام، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، جیتو پاکستان میں انعامات اور نقد رقم کا فراڈ، سمیت بہت سے دیگر فراڈ جس سے شہریوں سے کروڑوں روپے ماہانہ اینٹھے جاتے ہیں اور اب ایک نیا دلچسپ اور انوکھا فراڈ کیا جارہا ہے۔ روزنامہ جنگ میں اسد ابن

حسن کی خبر کے مطابق شکار کے فون پر کال کی جاتی ہے کہ آپ کا بیٹا اپنے دوست کے ساتھ ایک لڑکی کو ہراساں کرنے کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔ آپ کے بیٹے کے دوست کیخلاف تو ایف آئی آر کاٹ دی گئی ہے۔ میں سب انسپکٹر فلاں بات کررہا ہوں، آپ کے بیٹے نے بتایا ہے کہ آپ شریف آدمی ہیں، اس لیے میں آپ کو فیور دینا چاہتا ہوں۔ فراڈیا شکار سے بیٹے کی جعلی آواز میں 5سیکنڈ کی بات کرواتا ہے اور بیٹے کی آواز کچھ یوں ہوتی ہے ”ابو پلیز مجھے چھڑوا لیں“ جس وقت یہ بات ہورہی ہوتی ہے، اس وقت بات چیت کے دوران وائرلیس پر بات چیت کا شور چل رہا ہوتا ہے تاکہ شکار کو یہ یقین ہوجائے کہ واقعی پولیس اسٹیشن سے ہی بات کی جارہی ہے۔ موصول ہونے والی آڈیو کلپ میں جعلی پولیس والا شکار کو فیور کرنے کیلئے 35ہزار روپے جاز اکاؤنٹ میں ڈلوانے کا کہتا ہے۔ شکار کہتا ہے کہ اس کا جاز اکاؤنٹ نہیں ہے تو فراڈیا کہتا ہے تو پھر جلدی سے موبائل فون میں ڈلوا دیں۔ پہلے وہ اپنا نمبر دینے کا کہتا ہے مگر پھر ایک اور ”ماتحت“ کا نمبر دینے کا کہتا ہے مگر شکار

کو شاید شک ہوجاتا ہے اور فون کاٹ کر تھوڑی دیر بعد خود دوبارہ ”اہلکار“ کو فون کرتا ہے جس پر فراڈیا ناراض ہوتا ہے کہ لائن کیوں کاٹی۔ شکار سگنل پرابلم کا بہانہ بنا کر کہتا ہے کہ میرا بیٹا تو یونیورسٹی میں ہے اور میری اس سے بات ہوگئی ہے جس پر فراڈیا چند لمحوں کیلئے خاموش ہوجاتا ہے کہ تمہارا بھانجا ہوسکتا ہے۔ شکار کے انکار پر وہ کہتا ہے کہ بھانجا نہیں تو بھتیجا، پھر انکار پر آخر میں کہتا ہے کہ تمہارا بھائی اور شکار کی طرف سے پھر انکار پر فراڈیا فون کاٹ دیتا ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…