اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

سانحہ ساہیوال کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا ،موقع کے گواہ وسیم کاعدالت میں تہلکہ خیز انکشاف

datetime 21  دسمبر‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ساہیوال کے ملزمان کی بریت کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر مدعی جلیل کو جھوٹی گواہی دینے اور گواہوں کو حقائق چھپانے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاجبکہ فاضل عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ جھوٹی شہادت آپ دیں اور گندگیاں عدالت پر ڈالیں،گواہ ٹی وی پر جو کہانیاں

سناتے تھے ہم انہیں دیکھ کر روتے تھے ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کی ۔دوران سماعت کیس کے مدعی جلیل اور گواہان عدالت میں پیش ہوئے ۔ فاضل عدالت نے مدعی جلیل کو ٹرائل کورٹ میں جھوٹی گواہی دینے دیگر گواہوں کو حقائق چھپانے پر نوٹس جاری کر دئیے ۔ دوران سماعت فاضل عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کیوں نہیں آئے۔ تعمیل کنندہ پولیس افسران نے فاضل عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان کو اصالتاًتعمیل کرائی ہے۔بنچ کے سربراہ جسٹس عبدالعزیز نے مدعی مقدمہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ نے معاملہ سر پر اٹھا یا ہوا تھا ،بعد میں ملزمان کو پہچاننے سے انکار کر دیا،ٹرائل کورٹ میں ملزمان کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ فاضل عدالت نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جھوٹی شہادت دینے پر کیوں نہ تمہیں نوٹس دیں۔ دوران سماعت مدعی مقدمہ نے اجازت طلب کی کہ میں وکیل کرنا چاہتا ہوں جس پر فاضل عدالت نے برہمی کا

اظہار کرتے ہوئے کہا وکیل بعد میں کر لیناپہلے یہ بتائو کہ عدالت میں یہ کیسے کہا کہ ہم کیس کے متعلق کچھ نہیں جانتے،جھوٹی شہادت آپ دیں اور گندگیاں عدالت پر ڈالیں۔ فاضل بنچ کے رکن جسٹس عبدالعزیز نے استفسار کیا کہ مرنے والا تمھارا بھائی تھا۔موقع کے گواہ وسیم عدالت میں پیش ہوا اور بتایا کہ مجھے ڈی پی او ساہیوال نے یہ بیان دینے کا کہا تھا۔

فاضل عدالت نے ڈی پی او کیپٹن (ر)محمد علی ضیا ء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ واقعہ کا دوسرا رخ بعد میں آتا ہے ،پہلے ملک کو پوری دنیا میں بد نام کر دیتے ہیں،برآمدگی کے گواہوں نے بھی کہہ دیا کہ ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ فاضل بنچ کے سربراہ جسٹس عبدالعزیز نے ریمارکس دیئے کہ گواہ ٹی وی پر جو کہانیاں سناتے تھے ہم انہیں دیکھ کر روتے تھے،بعد میں سب گواہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں جانتے تھے۔دوران سماعت پراسکیوٹر نے کہا کہ گواہوں کے منحرف ہونے پر ملزمان بری ہوئے۔ فاضل بنچ نے کیس کی مزید سماعت17 جنوری تک ملتوی کردی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…