جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ترکی طالبان کی میزبانی کرنے والا پہلا ملک بن گیا

datetime 15  اکتوبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انقرہ( آن لائن )ترکی افغانستان میں طالبان رہنمائوں کی میزبانی کرنے والا پہلا ملک بن گیا ، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں وفد ترکی پہنچا جہاں ترک وزیر خارجہ میولوٹ چاوش اولو نے استقبال کیا ،جب سے طالبان نے افغانستان کی حکومت سنبھالی ہے تب سے طالبان دنیا کی حمایت حاصل کرنے کیلئے سرکردہ ہیں اس حوالے سے ترکی کے دور ے کے دوران ترکی نے اس عزم کااعادہ کیا کہ

وہ طالبان کی ہر قسم کی مدد کیلئے تیار ہے تاہم طالبان حکومت کو فی الحال تسلیم نہیں کرسکتے۔واضح رہے کہ امیر خان متقی، دوحہ میں امریکی اور یورپی یونین کے نمائندوں سے مذاکرات کے بعد ترکی پہنچے تھے، ان مذاکرات کے دوران انہوں نے خبردار کیا تھا کہ طالبان پر مغربی پابندیوں کے باعث افغانستان میں سلامتی کی صورتحال مزید کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔میولوت چاوش اولو نے انقرہ میں بند کمرہ مذاکرات میں طالبان کے پیغام کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری کو طالبان انتظامیہ سے مذاکرات کی اہمیت کے بارے میں بتا چکے ہیں لیکن تسلیم کرنا اور مذاکرات کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی معیشت متاثر نہیں ہونی چاہیے اس لیے ہم ان ممالک سے کہہ چکے ہیں کہ بیرون ملک موجود افغانستان کے منجمد کھاتوں کو مزید لچک کے ساتھ فعال کرنا چاہیے تاکہ تنخواہیں ادا کی جاسکیں۔ اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد عالمی بینک نے اپنے منصوبوں کی فنڈنگ روک دی تھی۔ترکی، نیٹو کے دفاعی اتحاد کا واحد مسلم اکثریتی ملک ہے جو اپنی پوزیشن استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں زیادہ سے زیاہ کردار ادا کیا کر سکے۔ تاہم انسانی امداد تک رسائی کے مرکزی مقام کابل ایئرپورٹ پر ترکی کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش طالبان کی جانب سے مسترد کردی گئی ہے،

دونوں فریقین کے درمیان اعلیٰ سطح کی پہلی گفتگو میں بظاہر اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔میولوت چاوش اولو کا کہنا تھا کہ انہوں نے امیر خان متقی پر دوبارہ زور دیا ہے کہ پروازوں کی معمول کے مطابق بحالی سے قبل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی یقینی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘آج ہم نے انہیں ایک مرتبہ بھر واضح کیا کہ ایئرپورٹ کے معاملات چلانے بالخصوص معمول کے مطابق پروازوں کی بحالی کے لیے سیکیورٹی کے مسئلے پر صرف ہمیں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی ایوی ایشن برادری کو بھی توقعات ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…