جمعرات‬‮ ، 15 اکتوبر‬‮ 2026 

ترکی طالبان کی میزبانی کرنے والا پہلا ملک بن گیا

datetime 15  اکتوبر‬‮  2021 |

انقرہ( آن لائن )ترکی افغانستان میں طالبان رہنمائوں کی میزبانی کرنے والا پہلا ملک بن گیا ، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں وفد ترکی پہنچا جہاں ترک وزیر خارجہ میولوٹ چاوش اولو نے استقبال کیا ،جب سے طالبان نے افغانستان کی حکومت سنبھالی ہے تب سے طالبان دنیا کی حمایت حاصل کرنے کیلئے سرکردہ ہیں اس حوالے سے ترکی کے دور ے کے دوران ترکی نے اس عزم کااعادہ کیا کہ

وہ طالبان کی ہر قسم کی مدد کیلئے تیار ہے تاہم طالبان حکومت کو فی الحال تسلیم نہیں کرسکتے۔واضح رہے کہ امیر خان متقی، دوحہ میں امریکی اور یورپی یونین کے نمائندوں سے مذاکرات کے بعد ترکی پہنچے تھے، ان مذاکرات کے دوران انہوں نے خبردار کیا تھا کہ طالبان پر مغربی پابندیوں کے باعث افغانستان میں سلامتی کی صورتحال مزید کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔میولوت چاوش اولو نے انقرہ میں بند کمرہ مذاکرات میں طالبان کے پیغام کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری کو طالبان انتظامیہ سے مذاکرات کی اہمیت کے بارے میں بتا چکے ہیں لیکن تسلیم کرنا اور مذاکرات کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی معیشت متاثر نہیں ہونی چاہیے اس لیے ہم ان ممالک سے کہہ چکے ہیں کہ بیرون ملک موجود افغانستان کے منجمد کھاتوں کو مزید لچک کے ساتھ فعال کرنا چاہیے تاکہ تنخواہیں ادا کی جاسکیں۔ اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد عالمی بینک نے اپنے منصوبوں کی فنڈنگ روک دی تھی۔ترکی، نیٹو کے دفاعی اتحاد کا واحد مسلم اکثریتی ملک ہے جو اپنی پوزیشن استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں زیادہ سے زیاہ کردار ادا کیا کر سکے۔ تاہم انسانی امداد تک رسائی کے مرکزی مقام کابل ایئرپورٹ پر ترکی کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش طالبان کی جانب سے مسترد کردی گئی ہے،

دونوں فریقین کے درمیان اعلیٰ سطح کی پہلی گفتگو میں بظاہر اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔میولوت چاوش اولو کا کہنا تھا کہ انہوں نے امیر خان متقی پر دوبارہ زور دیا ہے کہ پروازوں کی معمول کے مطابق بحالی سے قبل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی یقینی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘آج ہم نے انہیں ایک مرتبہ بھر واضح کیا کہ ایئرپورٹ کے معاملات چلانے بالخصوص معمول کے مطابق پروازوں کی بحالی کے لیے سیکیورٹی کے مسئلے پر صرف ہمیں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی ایوی ایشن برادری کو بھی توقعات ہیں۔



کالم



 عمران خان بھٹو


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…