جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

کابل یونیورسٹی کے طالب علم کی جعلی ٹوئٹ رپورٹ کرنے پر امریکی میڈیاکی وضاحت

datetime 2  اکتوبر‬‮  2021 |

کابل(این این آئی)امریکی میڈیا ایک جعلی ٹوئٹر اکائونٹ سے کابل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہونے کا دعوی کرنے والی ٹوئٹ رپورٹ کرنے کے بعد وضاحتیں جاری کرنے پر مجبور ہوگیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق 21 ستمبر کو غیر تصدیق شدہ اکائونٹ، جس کا دعوی تھا کہ اس کا تعلق نو تعینات کابل یونیورسٹی کے وائس چانسلر محمد اشرف غیرت سے ہے، نے

ٹوئٹس کی ہیں جنہیں مغربی میڈیا نے فوری رپورٹ کیا۔ایسی ہی ایک ٹوئٹ میں لکھا گیا تھا کہ لوگوں! میں آپ کو کابل یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے اپنے الفاظ دیتا ہوں، جب تک سب کے لیے حقیقی اسلامی ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، خواتین کو یونیورسٹیز میں آنے یا کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اسلام سب سے پہلے ہے۔ٹوئٹ نے تیزی سے توجہ حاصل کی اور امریکی اخبار نے اسے رپورٹ کیا جس نے ایک مکمل صفحے کی رپورٹ میں طالبان کے تحت خواتین کی تعلیم کے مستقبل کے بارے میں رپورٹ کیا جس کا عنوان تھا کابل یونیورسٹی کے نئے طالبان چانسلر نے خواتین پر پابندی لگادی۔تاہم جہاں اس پر رپورٹنگ کی گئی وہیں ٹوئٹر اکائونٹ کو چلانے والے صارف نے بعد میں اسی اکائونٹ سے ٹوئٹ کیا اور اعتراف کیا کہ وہ کابل یونیورسٹی کا وائس چانسلر نہیں ہے، اس کے بجائے وہ یونیورسٹی میں 20 سالہ طالب علم ہے جو مایوس ہے۔ایک ٹوئٹر تھریڈ میں اس نے وضاحت دی کہ اسے جنگ زدہ ملک میں طالبان کے

ساتھ کوئی مستقبل نہیں نظر آتا۔انہوں نے کہا کہ میں کابل میں پلا بڑھا ہوں، میں اسکول اور یونیورسٹی گیا، میرے خواب تھے کہ افغان معاشرے اور سیاست میں ایک بااثر شخص بنوں لیکن اب دیکھو میری تمام خواہشات کے ساتھ کیا ہوا ہے۔قانون کے طالب علم نے کہا کہ اس نے یہ اکائونٹ بنایا تاکہ افغان تعلیم کے خاتمے کو اجاگر کرسکے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت جو افغانستان میں ہو رہا ہے وہ اصل مذاق ہے، یہ مضحکہ خیز ہے، ہمارے تمام رہنما ملک چھوڑ کر چلے گئے اور ہم اکیلے طالبان کا سامنا کر رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…