ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے کفایت شعاری کی منفرد مثال قائم، اخراجات میں نمایاں کمی

datetime 20  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن)موجودہ حکومت مالی نظم و ضبط اور کفایت شعاری کے ذریعے اخراجات میں کمی لانے کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے گذشتہ تین سالوں کے دوران اپنے اخراجات میں 26 فیصد کمی کر کہ دیگر سرکاری محکموں اور وزارتوں پر کفایت شعاری میں سبقت حاصل کر لی گئی ہے۔ یہ بات قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے اجلاس میں کی گئی

جس کا اجلاس پیر کے روز اسلام میں سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں منعقد ہوا میں نوٹ کی گئی۔ وزارت خزانہ کے ایڈیشنل سیکرٹری نے تسلیم کیا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کفایت شعاری کی ایک منفرد مثال قائم کی ہے جس کی مثال دوسرے حکومتی محکموں میں نہیں ملتی۔گزشتہ تین سالوں کے دوران قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے نہ ہی کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی اور نہ ہی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ یا پارلیمنٹ میں لاجز قائم دفاتر کی تزئین و آرائش کی گئی۔ مزید بران ان تین سالوں کے دوران سیکرٹریٹ میں کوئی نئی اسامی تخلیق کی گئی اور بیرونی دوروں میں کٹوتی کی گئی ہے۔ موجودہ سپیکر قومی اسمبلی اس اعلیٰ قانون ساز ادارے کا سب سے کم بیرونی ممالک کے دورے کرنے والے سپیکر ہیں۔ فنانس کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے لیے مجموعی وفاقی بجٹ کا 0.001 فیصد مختص کیا گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی 342 اراکین پر مشتمل ہے اور اس کی تین درجن سے زائد کمیٹیاں ہیں اور قومی اسمبلی کے عملے کی تعداد تقریبا 1200 افراد پر مشتمل ہے۔ اس بھاری بوجھ کے باوجود قومی اسمبلی نے کفایت شعاری مہم پر عمل کرتے ہوئے اپنے اخراجات میں کمی کی منفرد مثال قائم کی ہے جو انتہائی اہمیت کا حامل اقدام سمجھا جاتا ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ مالی سال 21-2020 کے دوران قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے مختص بجٹ میں سے کمی کر کہ 1 ارب 57 کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اٹھائے جانے والے انتظامی اور مالی اصلاحات کی بدولت مالی انسانی وسائل میں بہتری آئی ہے اور عدالتوں میں سیکرٹریٹ ملازمین کی جانب دائر ہونے والے کیسسز کی تعداد صفر فیصد ہو گئی ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…