پیر‬‮ ، 12 اکتوبر‬‮ 2026 

وزیر خزانہ شوکت ترین نےآٹے کی قیمتوں میں کمی کا دعوی کر دیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن )وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ آٹا، چینی اور ضروری اشیا کی قیمت میں چند روز میں کمی آجائیگی۔ وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر کیش سبسڈی دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں ہوئی ہے۔ گندم کی ریلیز پرائز 19 سو روپے کردی ہے

جس کے بعد آئند چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں غیرمعمولی کمی ہوجائے گی۔اسلام آباد میں دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران شوکت ترین نے سبزیوں کی قیمت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسان سے لے کر ریٹیلر تک قیمتوں کا تعین کررہے ہیں، احساس پروگرام کا ڈیٹا آگیا ہے، جس کے تحت ہم رواں ماہ سے ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے، اس سے قبل گیس اور بجلی پر ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے تھے، اب آٹا، گھی، چینی، دالوں پر کیش سبسڈی دیں گے۔ آئندہ چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں کمی ہوگی۔شوکت ترین نے کہا کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے، آئی ایم ایف میں جانے سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آلو، پیاز، ٹماٹر سمیت روز مرہ کی چیزوں کی قیمتوں میں مقامی سطح پر اضافے کے بعد جائزہ لینا ہوگا کہ آیا منڈی میں مہنگے دام فروخت ہونے والی سبزیوں کو برآمد کرنا چاہیے یا نہیں۔ ہم بین الاقوامی قیمتوں سے لنک (منسلک) ہوگئے ہیں، ہم ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ کاشت ہونے والی سبزی سے لیکر خوردہ فروش (ریٹیلرز) کا کتنا کتنا فائدہ ہے، اور یقینی طور پر یہ منافع بہت ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کسان کو اتنا منافع نہیں ملتا جتنا خوردہ فروش کماتا ہے، اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے ‘سائنٹیفک پروسیز ری انجینئرنگ ‘ کررہے ہیں۔شوکت ترین نے مزید کہا کہ کاشت کار سے لیکر مارکیٹ میں فروخت ہونے تک کے تمام مراحل کی سائنٹیفک بنیاد پر مطالعہ ہوگا کہ کون کتنا فیصد منافع وصول کررہا ہے اور قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں کون کون شامل ہو کورونا کی وجہ سے دنیا بھرمیں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں، کورونا سے اشیا کے فراہمی متاثر ہوئی اوراس کے منفی اثرات مرتب ہوئے، مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں ہوئی ہے، قیمتوں کے استحکام کے لیے پیداوار بڑھانا ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی فی ٹن 430 ڈالر پر چلی گئی ہے۔ ماضی میں زراعت کا شعبہ نظر انداز رہا اور کسان متاثر ہوا، ہمیں زرعی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…