جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بلاول بھٹو زر داری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بریکٹ ہوئے جو پیشکش بلاول کو ہوئی وہ ہمیں بھی ہوئیں ہم نے قبول نہیں کی، پیپلز پارٹی ہماری بات مانتی تو حکومت ختم ہو چکی ہوتی، مولانا فضل الرحمان

datetime 9  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پی ڈی ایم ٹوٹنے کا ذمہ دار پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زر داری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بریکٹ ہوئے جو پیشکش بلاول کو ہوئی وہ ہمیں بھی ہوئیں ہم نے قبول نہیں کی، استعفوں کا آپشن پی ڈی ایم کے اعلامیہ میں موجود تھا،

پیپلز پارٹی ہماری بات مانتی تو آج یہ حکومت ختم ہو چکی ہوتی ہے، ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت کچھ ہمارے نوٹس میں آئے،ہم محاذ نہیں کھولنا چاہتے۔ایک انٹرویومیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ بلاول بھٹو زر داری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بریکٹ ہوئے جو پیشکش بلاول کو ہوئی وہ ہمیں بھی ہوئیں لیکن ہم نے قبول نہیں کی۔ انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہاکہ جب آپ میں میر جعفر اٹھیں گے تو کچھ بھی فرق پڑے گا، نام لینے کی ضرورت نہیں لوگ بہت ہوشیار سمجھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے بلاول ہی کو پی ڈی ایم کہنا ہے تو پھر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں کون کھیل رہا ہے؟، پی ٹی آئی کا بریکٹ کون ہوا ہے؟ ہم وہ سیاست نہیں کرینگے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے اعلامیہ میں استعفوں کا آپشن موجود ہے، اس کا انکار کر دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم دونوں اتحادی ہیں جب ملکر کام کرینگے تو اثر ہوگا اور جب ہم تقسیم ہو جائینگے تو اثر اورہو گا۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ہم ملکر استعفیٰ دیتے تو الیکشن بھی ہو چکے ہوتے اور حکومت بھی جا چکی ہوتی۔انہوں نے کہاکہ جب صورتحال تقسیم ہو گئی ہے تو اس میں اسمبلی کے اندر لوگوں کو باہر نکالنا ہے تو تبدیلی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت کچھ ہمارے نوٹس میں آئے لیکن ہم محاذ نہیں کھولنا چاہتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…