ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

طالبان نے ایک ہی دن میں تیسرا صوبہ بھی فتح کر لیا

datetime 12  اگست‬‮  2021 |

کابل (مانیٹرنگ، این این آئی) طالبان کی پیش قدمی تیزی سے جاری، ایک ہی دن میں افغانستان کا تیسرا صوبہ بھی فتح کرلیا۔اے ایف پی کے مطابق طالبان نے صوبہ ہرات کے دارالحکومت ہرات کو فتح کرلیا ہے، یہ افغانستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔اس سے قبل طالبان نے غزنی اور قندھار بھی آج ہی فتح کیے ہیں۔ طالبان اب تک افغانستان کے 12 صوبے فتح کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان نے افغانستان کے اہم ترین شہر قندھار پر بھی فتح حاصل کر لی، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے قندھار کی فتح مکمل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں طالبان شہدا چوک پر موجود ہیں، واضح رہے کہ طالبان نے گیارہواں صوبائی دارالحکومت فتح کر لیا ہے، واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے صوبہ غزنی کے دارالحکومت غزنی کا کنٹرول سنبھال لیا اورصورتحال میں افغان حکومت نے طالبان کو شراکت اقتدار کی پیشکش کی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اہم حکومتی ذرائع کے مطابق ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کے لیے افغان حکومت نے طالبان کو شراکت اقتدار کی پیشکش کی ہے۔رپورٹ کے مطابق اقتدار میں شراکت کی یہ پیشکش قطر کے ذریعے کی گئی ہے جو افغان امن مذاکرات کی میزبانی بھی کررہا ہے۔ادھر قطر میں جاری مذاکرات کا تیسرا اور آخری دن شروع ہو گیا تاہم اب تک ہونے والے مذاکرات میں کسی بھی قسم کی پیشرفت نہیں ہوئی البتہ افغان حکومت کے نمائندے اس حوالے سے پیشرفت کے لیے پرامید ہیں۔ان مذاکرات میں افغانستان اور طالبان کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، پاکستان، ازبکستان، امریکا، برطانیہ، چین اور یورپی یونین کے سفارتی حکام بھی شریک ہیں۔صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں لڑائی عروج پر ہے

اور طالبان نے وہاں کے پولیس ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔دوسری جانب طالبان نے کابل سے صرف 150 کلومیٹر کے فاصلے پر افغانستان کے اسٹریٹجک شہر غزنی کا کنٹرول حاصل کرلیا۔یہ شہر ایک ہفتے میں طالبان کے قبضے میں آنے والا 10 واں صوبائی دارالحکومت ہے جو اہم

کابل-قندھار شاہراہ کے ساتھ واقع ہے اور دارالحکومت اور جنوب میں طالبان کے گڑھ کے درمیان ایک گیٹ وے کے طور پر کام کرتا ہے۔صوبہ میدان ورک میں غزنی کے گورنر کو بھی طالبان نے گرفتار کر لیا ہے جہاں اس سے قبل ان کے صوبے سے فرار ہونے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔واضح رہے کہ افغان تنازع مئی سے

ڈرامائی طور پر بڑھ گیا ہے جب امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج نے 20 سال کے قبضے کے بعد رواں ماہ کے آخر میں فوجی دستوں کی واپسی کا آخری مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔غزنی کے بعد ممکنہ طور پر ملک کی پہلے سے دباؤ کا سامنا کرنے والے فضائیہ پر مزید دباؤ پڑے گا جو افغانستان کی بکھرے ہوئے سکیورٹی فورسز کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں طالبان نے 10 صوبائی دارالحکومتوں

پر قبضہ کر لیا ہے اور اب شمال کے سب سے بڑے شہر مزار شریف کے روایتی طالبان مخالف گڑھ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔بدھ کی رات طالبان نے قندھار میں جیل پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک طویل محاصرے کے بعد مکمل طور پر فتح کرلیا گیا ہے اور اس میں سے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر کے محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔طالبان اکثر جیلوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ قید جنگجوؤں کو رہا کیا جائے اور ان کی صفوں کو بھرا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…