لاہور سے لاپتہ چاروں بچیوں کو رکشہ ڈرائیور نے فروخت کیا، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

  بدھ‬‮ 4 اگست‬‮ 2021  |  15:45

لاہور(این این آئی) لاہور کے علاقے ہنجروال سے لاپتا ہونے والی 4 بچیوں کے معاملے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق چاروں بچیاں سہانے مستقبل کے لیے گھر چھوڑ کر گئی تھیں، سوتیلی بہنیں کنزہ اور انعم اپنے باپ عرفان کے پاس رہتی تھیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہمقدمے کا مدعی عرفان اپنی دونوں بیویوں کو طلاق دے چکا ہے، کنزہ اور انعم اپنے باپ عرفان کے نشے کی وجہ سے تنگ تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کنزہ اور انعم نے پڑوسی اکرم کی بیٹیوں عائشہ اور ثمرین کو ساتھ ملایا، چاروں بچیوں نے حالات سے دلبرداشتہ ہو


کر گھر سے بھاگنے کی ٹھانی۔پولیس ذرائع کے مطابق چاروں بچیاں چاہتی تھیں کہ ان کے پاس بہت سا پیسہ آ جائے، بچیاں ہنجروال اورنج ٹرین اسٹاپ سے ٹرین پر بیٹھ کر گلشن راوی پہنچیں، گلشن راوی میں عائشہ نے موبائل سے فون کر کے محلے دار عمر کو بلا لیا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ عمر گلشن راوی پہنچا لیکن معاملے کا سن کر ڈر کر واپس آگیا، عمر نے ہنجروال پہنچ کر بچیوں کے والدین کو بتا دیا کہ وہ بھاگ گئی ہیں۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ چاروں بچیاں ایک رکشہ ڈرائیور ارسلان کے ہتھے چڑھ گئیں، رکشہ ڈرائیور ارسلان چاروں بچیوں کو تین چار گھنٹے شہر میں گھماتا رہا، پھر چاروں بچیاں قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ کے قریب رکشے سے اتر گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے رکشہ ڈرائیور ارسلان اور اس کے ساتھی ارشد کو حراست میں لے رکھا ہے، قائداعظم انڈسٹریل ایریا سے چاروں بچیاں ایک اور رکشہ ڈرائیور کے ہتھے چڑھ گئیں، رکشہ ڈرائیور بچیوں کو پہلے اپنے گھر گرین ٹائون لے گیا۔پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ رکشہ ڈرائیور چاروں بچیوں کو ساہیوال لے کر چلا گیا، رکشہ ڈرائیور کی بیوی اور اس کا دوست بھی اپنی بیوی کے ساتھ بچیوں کے ہمراہ تھا۔ذرائع کے مطابق رکشہ ڈرائیور نے چاروں بچیوں کو جسم فروشی کے اڈے پر بیچنے کا پروگرام بنایا تھا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کر کے چاروں بچیاں برآمد کر لیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چاروں بچیوں کا طبی معائنہ کروایا جائے گا اور ان کے بیان کے بعد لاہور لایا جائے گا، پولیس اس معاملے میں اب تک 2 خواتین سمیت 6 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔


زیرو پوائنٹ

الیکشن کمیشن میں کیا ہو رہا ہے؟

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎