جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

افغان فورسز سے چھینی گئی پوسٹوں سے طالبان کو 3 ارب پاکستانی روپے مل گئے

datetime 15  جولائی  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سپن بولدک ، واشنگٹن(این این آئی)پاک افغان سرحد پر افغان سکیورٹی فورسز سے چھینی گئی چیک پوسٹوں سے طالبان کو 3 ارب پاکستانی روپے مل گئے۔افغان طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز سے خالی کروائے گئے قندھار کے علاقے اسپن بولدک میں افغان فورسز کی چیک پوسٹوں سے تقریباً 3 ارب روپے کی

پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے یہ وہ رقم ہے جو افغان سکیورٹی فورسز اسمگلروں سے رشوت کے طور پر وصول کرتی تھیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس ان پیسوں کو پاکستان میں حملے کروانے کے لیے دہشت گردوں کو ادائیگی کے لیے استعمال کرتی تھی۔تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان ایجنسیاں بھارتی اور دیگر پاکستان مخالف عناصر کی ذیلی فرنچائز کے طور پر سرگرم ہیں۔دوسری جانب امریکا کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان سے نیٹو افواج کی دستبرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو طالبان کے قتل عام کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے غیرملکی افواج کے افغانستان سے واپس جانے کو غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان شہریوں کو قتل ہونے کے لیے طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔جرمنی کے خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے کو انٹرویو میں 11 ستمبر کے واقعے کے بعد افغانستان میں چڑھائی کرنے والے

سابق امریکی صدر جارج بش نے نیٹو افواج کے انخلا پر کڑی تنقید ہوئے اسے غلطی قرار دیا۔جارج بش کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو افواج کے انخلا کی غلطی سے افغانستان میں خواتین اور لڑکیاں ناقابل بیان نقصان اٹھانے والی ہیں جس پر میرا دل دکھتا ہے۔ ایک بار پھر خواتین اور معصوم لوگوں کو قربان کرنے کے لیے ظالم لوگوں کے پاس اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔

امریکا کے سابق صدر نے کہا کہ جن لوگوں نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی مدد کی انھیں ذبح ہونے کے لیے سفاک لوگوں کے سامنے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے حالانکہ یہ شہری عالمی قیادت کی جانب سے اچھے سلوک کے مستحق تھے۔سابق امریکی صدر جارج بش نے بتایا کہ میں اور لارا بش نے افغان خواتین کے ساتھ بہت وقت گزارا اور وہ بہت خوف

زدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ نہ صرف امریکی فوج بلکہ نیٹو افواج کی مدد کرنے والے اور تمام ترجمانوں کو ایسا لگتا ہے کہ بہت ہی ظالم لوگوں کے ذریعے قتل کرنے کے لیے چھوڑا گیا ہے اور اس سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔جارج بش سے سوال کیا گیا کہ کیا افغانستان سے فوجیوں کا انخلا ایک غلطی تھی تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں ایسا ہی

سمجھتا ہوں۔نیویارک اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں 11 ستمبر 2001 کو بدترین حملوں کے بعد 2001 میں ہی امریکی فوج کو افغانستان بھیجنے والے سابق ری پبلکن صدر کا کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ جرمن چانسلر اینجیلا مرکل بھی ایسا ہی سوچتی ہیں۔بش کا کہنا تھا کہ مرکل نے بہت اہم پوزیشن کو ایک کلاس اور عزت بخشی ہے اور بڑے سخت فیصلے کیے ہیں۔

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل 16 سال حکمرانی کے بعد رواں برس کے آخر میں سیاست سے ریٹائر ہوجائیں گی۔خیال رہے کہ امریکا اور نیٹو فورسز نے رواں برس مئی کے شروع میں افغانستان سے انخلا کا آغاز کردیا تھا اور 20 سال تک جنگ زدہ ملک میں رہنے کے بعد 11 ستمبر تک مکمل طور پر دستبردار ہو جائیں گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…