افغان ایئرلائن کو پاکستان کیلئے پروازوں کی اجازت دینے کا فیصلہ

  اتوار‬‮ 4 جولائی‬‮ 2021  |  23:20

اسلام آباد( آن لائن ) کابل اور اسلام آباد کے درمیان ہفتہ وار پروازوں کا آغاز،سول ایوی ایشن اتھارٹی نے افغان ایئرلائن آریانہ کوپاکستان کیلئے پروازوں کی اجازت دے دی۔ تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے افغان ایئر لائن آریانہ کو پاکستان کیلئے براہ راست پروازوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا۔ سول ایوی ایشن کی جانب

سے افغان حکام کو بھیجے گئے۔ مراسلے کے مطابق ابتدائی طور پر کابل اور اسلام آباد کے درمیان ہفتہ وار 2 پروازیں آپریٹ کرنے کی اجازت ہوگی۔سی اے اے کے مطابق افغان ایئرلائن کی پروازوں کے شیڈول اور سلاٹ کا باقاعدہ اجازت نامہ جلد جاری کیا جائے گا۔سول ایوی ایشن اتھارٹی ذرائع کے مطابق دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری کیلئے یہ بڑا اقدام ہوگا، افغانستان کی قومی ایئرلائن نے پاکستان کیلئے براہ راست پروازوں کی درخواست دی تھی۔ دوسری جانب سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پروازوں کی منسوخی کے معاملے پر غیر ملکی ائیرلائنز کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسافروں کو ریلیف نہ دینے پر ائیرلائنز پر جرمانہ اور فلائٹ شیڈول معطل کیا جاسکتا ہے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان آنے والی غیر ملکی ائیرلائنز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پروازوں کی منسوخی کا نوٹس لیا اور 5 غیر ملکی ائیرلائنز قطر ،ایمریٹس، اتحاد، فلائی دبئی اور ترک ائیر کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں سی اے اے کے شعبہ ایئرٹرانسپورٹ نے ائیر لائنزسے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی ائیرلائنز فلائٹس منسوخی کے باعث عوامی شکایت کا ازالہ کرے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے افغان ایئرلائن آریانہ کوپاکستان کیلئے پروازوں کی اجازت دے دی۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

تیونس تمام

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎