سعودی عرب میں نماز کے اوقات کے دوران تجارتی مراکزبند نہ کرنے کی قرار داد پیش کردی گئی

  پیر‬‮ 21 جون‬‮ 2021  |  14:55

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی ) سعودی شوریٰ کے اراکین ڈاکٹر فیصل الفاضل، ڈاکٹر لطیفہ الشعلان اور ڈاکٹر لطیفہ العبد الکریم نے اسلامی و عدالتی امور کی کمیٹی کے سامنے سفارش کی ہے کہ نماز کے اوقات کے دوران تجارتی مراکز بند رکھنے کی پابندی ختم کر دی جائے۔اس سفارش پر وزارت اسلامی امور نے ایک رپورٹ تیار کر لی ہے۔ جس پر آجشوریٰ میں ووٹنگ ہو گی۔ عرب میڈیا کے مطابق شوریٰ اراکین نے اپنی سفارش میں کہا ہے کہ صرف سعودی عرب میں ہی نماز کے اوقات کے دوران تجارتی مراکز بند کرنے کا رواج ہے۔ اس کے


علاوہ کسی مسلم ملک میں ایسا نہیں کیا جاتا ۔ مملکت میں بھی یہ پابندی کچھ عشروں پہلے ہی عائد کی گئی ہے۔تجارتی مراکز کا کام لوگوں کو مستقل خدمات کی فراہمی ہے۔یہ لوگ روزگار کمانے کے لیے بیٹھے ہیں۔ جس طرح سرکاری اور نجی اداروں کو نماز کے اوقات کے دوران بند نہیں کیا جاتا، اسی طرح تجارتی مراکز پر بھی نماز کے دوران بندش کی پابندی ہٹا لی جائے ۔ پٹرول اسٹیشنوں اور فارمیسیوں کو بھی نماز کے دوران بند نہ کیا جائے۔ البتہ نماز جمعہ کے وقت کاروباری مراکز کی بندش لازمی ہونی چاہیے ، دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے ملک بھر کی مساجد کی انتظامیہ کو ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں کرونا وبا کے پیش نظر ہیلتھ کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ہدایاتاور ایس اوپیز پر سختی سے عمل درآمد پر زوردیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے نمازیوں پر کرونا ایس او پیز پرعمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے مساجد میں آتے وقت چہروں کو ماسک سے ڈھانپنے، اپنی جائے نماز ساتھ لانے، مساجد میں داخل ہوتے اور باہر نکلتے وقت رش سے بچنے اور نمازیوں کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنے کی ہدایتکی ہے، تاہم دو صفوں کے درمیان ایک صف خالی چھوڑنے کی شرط منسوخ کردی گئی ہے۔سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور نے کرونا وبا کے دنوں میں مساجد میں اذان اور نماز کے لیے اقامات کے درمیان وقفے میں کی گئی کمی منسوخ کرتے ہوئے سابقہ روٹین بحال کردی ہے۔نماز فجر سے قبل ملک بھرکی مساجد میں اذان اور اقامت کے درمیان 25 منٹکا وقفہ ہوگا۔ نماز مغرب میں 10 منٹ اور دیگر تمام نمازوں کی اذان اور اقامت کے درمیان 20 منٹ کا وقفہ بحال کردیا گیا ہے۔ جمعہ کے روز نمازجمعہ سے ایک گھنٹہ قبل مساجد کو کھول دیا جائیگا جبکہ نماز کے آدھے گھنٹے بعد مساجد کو بند کیا جائے گا۔ اسی طرح جمعہ کے خطبے اور نماز کا دورانیہ منٹ تک محدود کرنے کا فیصلہ بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف پانچ ہزار روپے کے لیے

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎