جمعہ‬‮ ، 22 ‬‮نومبر‬‮ 2024 

حقائق تسلیم شدہ ہوں تو انکوائری کمیٹی کیا کرے؟ معزول جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

datetime 1  جون‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں معزول جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس سردار طارق نے کہا جس ریفرنس میں برطرفی ہوئی اس میں حقائق تسلیم شدہ ہیں، حقائق تسلیم شدہ ہوں تو انکوائری کمیٹی کیا کرے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تقریر اور اسکے نقاط سے انکار نہیں کیا گیا ، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست

قابل سماعت سمجھنے اور قرار دینے میں فرق ہے،وکیل حامد خان نے کہا ہے کہ بار سے ججز کا خطاب کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی نہیں ، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری بھی بار سے خطاب کرتے رہے ہیں جس پر ججز نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے جو طریقہ اپنایا وہ دیکھیں،کیا جج کو اس انداز میں گفتگو کرنی چاہیے؟ ۔  سپریم کورٹ میں سابق جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف درخواست پر سماعت جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے نوٹس کے باوجود جواب جمع نہیں کرایا جس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ درخواست قابل سماعت ہونے کی رکاوٹ عبور ہونے پر جواب جمع کرائیں گے۔ حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے کھلی عدالت میں انکوائری نہ کرنے کا جوڈیشل کونسل کا فیصلہ چیلنج کیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے قابل سماعت ہونے پر ہی

فیصلہ کالعدم قرار دیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ جس بنیاد پر درخواست قابل سماعت سمجھی گئی وہ دیکھنا بھی ضروری ہے،تقریر اور اس کے نقاط سے انکار نہیں کیا گیا ،جوڈیشل کونسل نے سمجھا مزید تحقیقات کی ضرورت نہیں،جسٹس سردار طارق نے کہا جس ریفرنس میں برطرفی ہوئی اس میں حقائق تسلیم شدہ ہیں، حقائق تسلیم شدہ ہوں تو انکوائری

کمیٹی کیا کرے؟ ۔وکیل حامد خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری بھی بار سے خطاب کرتے رہے ہیں جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ افتخار چوہدری بار سے ہمیشہ لکھی ہوئی تقریر کرتے تھے، افتخار چوہدری نے کبھی تقریر میں کسی پر الزام نہیں لگایا تھا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔

موضوعات:



کالم



ہم سموگ سے کیسے بچ سکتے ہیں (حصہ دوم)


آب اب تیسری مثال بھی ملاحظہ کیجیے‘ چین نے 1980ء…

ہم سموگ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

سوئٹزر لینڈ دنیا کے سات صاف ستھرے ملکوں میں شمار…

بس وکٹ نہیں چھوڑنی

ویسٹ انڈیز کے سر گارفیلڈ سوبرز کرکٹ کی چار سو…

23 سال

قائداعظم محمد علی جناح 1930ء میں ہندوستانی مسلمانوں…

پاکستان کب ٹھیک ہو گا؟

’’پاکستان کب ٹھیک ہوگا‘‘ اس کے چہرے پر تشویش…

ٹھیک ہو جائے گا

اسلام آباد کے بلیو ایریا میں درجنوں اونچی عمارتیں…

دوبئی کا دوسرا پیغام

جولائی 2024ء میں بنگلہ دیش میں طالب علموں کی تحریک…

دوبئی کاپاکستان کے نام پیغام

شیخ محمد بن راشد المختوم نے جب دوبئی ڈویلپ کرنا…

آرٹ آف لیونگ

’’ہمارے دادا ہمیں سیب کے باغ میں لے جاتے تھے‘…

عمران خان ہماری جان

’’آپ ہمارے خان کے خلاف کیوں ہیں؟‘‘ وہ مسکرا…

عزت کو ترستا ہوا معاشرہ

اسلام آباد میں کرسٹیز کیفے کے نام سے ڈونٹس شاپ…