ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ججز کے خلاف ریفرنس پر سینئر وکیل علی احمد کرد نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا

datetime 13  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سینئر وکیل احمد علی کرد نے کہاہے کہ ایسا کوئی احتجاج نہیں جو قومی نوعیت کا ہو اور میں شامل نہ ہوں،جسٹس قاضی فائز کیخلاف چھ ماہ میں دو مرتبہ مقدمات دائر کیے گئے، کئی ججز کے خلاف شکایات درج کی گئی ہیں اس پر کارروائی نہیں کی گئی،اگر ثاقب نثار بیچ میں نہ ہوتے تو میں صدر سپریم کورٹ بار کا انتخاب نہ ہارتا۔سینئر وکیل ایڈووکیٹ احمد علی کرد نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایسا کوئی احتجاج نہیں جو قومی نوعیت کا ہو اور

میں شامل نہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز کیساتھ نہ ہماری ذاتی رشتہ داری ہے نہ کوئی تعلق ہے۔انہوں نے کہاکہ سپریم جوڈیشل کونسل بہت کمزور ادارہ ہے،مقتدر طاقتیں ہیں جو اس ملک کی آل ان آل ہیں وہ ایسا کررہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز کیخلاف چھ ماہ میں دو مرتبہ مقدمات دائر کیے گئے، کئی ججز کیخلاف شکایات درج کی گئی لیکن اس پر کارروائی نہیں کی گئی۔احمد علی کرد نے کہاکہ اگر جسٹس ثاقب نثار بیچ میں نہ ہوتے تو میں صدر سپریم کورٹ بار کا انتخاب نہ ہارتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…