ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

دنیا میں خودکشی کرنے والوں میں کتنی فیصدبھارتی خواتین ہیں؟دوران تحقیق ہوش اڑا دینے والے انکشافات

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی( آن لائن )بھارت خود سوزی کے واقعات میں عالمی سطح پر بازی لے گیا، دنیا میں خودکشی کرنیوالی خواتین میں 37فیصدخواتین بھارتی ہیں، بھارت میں خود کشی کرنیوالی زیادہ تر شادی شدہ خواتین ہیں،2016میں 2لاکھ30ہزار 314بھارتی خواتین نے خودکشی کی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دنیا میں خودکشی کرنیوالی خواتین کے حوالے سے کی گئی تحقیق کے مطابق 10خواتین میں سے ہر چوتھی

بھارتی ہے۔لانسیٹ پبلک ہیلتھ جرنل میں شائع خبر کے مطابق دنیا میں خودکشی کرنیوالی 37فیصدبھارتی خواتین ہیں۔2016 میں بھارت میں مرنے کے اسباب میں نواں سب سے اہم سبب خودکشی ریکارڈ کیا گیا۔ جائزے کے مطابق 1990 میں بھارت میں ایک لاکھ64ہزار404افراد نے خود کشی کی تھی ،2016میں یہ تعداد بڑھ کر 2 لاکھ30ہزار314تک پہنچ گئی۔تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ملک میں عمردراز افراد کی خودکشی کی تعداد میں گزشتہ 25برسوں کے دوران اضافہ ہوا۔جائزہ نگاروں میں شامل معروف مصنف راکھی دندونا نے بتایا کہ بھارت میں خود کشی کرنیوالی زیادہ تر شادی شدہ خواتین ہیں۔ اس کی اہم وجہ شادی شدہ زندگی کے طور طریقے ہیں جس کی وجہ سے خواتین کو اپنی اہمیت اور پراعتماد زندگی گزارنے کا موقع نہیں مل پاتا۔ بھارتی خواتین سماجی امیدوں ، معاشی انحصاری اور کئی معاملات میں جلد شادی ہونے کی وجہ سے مختلف مسائل میں گھر جاتی ہیں۔ذہنی صحت اور سہولتوں کے فقدان خواتین کی خودکشی کے اہم اسباب ہیں لہذا ان میں بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…